اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

ہر نظر ایک گھات ہوتی ہے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

ہر نظر ایک گھات ہوتی ہے
دل میں جب کوئی بات ہوتی ہے

شمع بجھتی ہے، زلف کھلتی ہے
تب کہیں رات، رات ہوتی ہے

حسن سرشار، عشق وا رفتہ
کس سے ایسے میں بات ہوتی ہے

زیست لے بیٹھتی ہے اپنے گلے
غم سے جب کچھ نجات ہوتی ہے

بے رخی، اختلاف، روکھا پن
یوں بھی کیا کوئی بات ہوتی ہے

زخم کھا کر نظر جب اٹھتی ہے
حاصل کائنات ہوتی ہے

غم کا احساس تک نہیں باقیؔ
یوں بھی غم سے نجات ہوتی ہے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button