اردو غزلیاتسعد اللہ شاہشعر و شاعری

اشک جب اپنی آنکھ میں آیا

ایک اردو غزل از سعد اللہ شاہ

اشک جب اپنی آنکھ میں آیا ساری کہانی ختم ہوئی
تم نے جب احساس دلایا ساری کہانی ختم ہوئی
تم ہی نہیں ہو دشمن اپنے ہم بھی ہیں کچھ ایسے ہی
ہم نے خود جب دل کو جلایا ساری کہانی ختم ہوئی
ساری باتیں ٹھیک تھیں تیری تو میرا میں تیرا تھا
اور مفاد جہاں ٹکرایا ساری کہانی ختم ہوئی
دھوپ کے ساتھ تھا سایہ اپنی جو اپنی پہچان بنا
شام ہوئی تو چھپ گیا سایہ ساری کہانی ختم ہوئی
باغِ ارم میں تنہا تھے ہم اپنی فکر و فہم کے ساتھ
آنچل جب کوئی لہرایا ساری کہانی ختم ہوئی
ہم دنیا کو ٹھکرا دیتے لیکن ہم سے دیر ہوئی
ہم کو دنیا نے ٹھکرایا ساری کہانی ختم ہوئی

سعد اللہ شاہ

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button