آپ کا سلاماردو غزلیاتبشریٰ سعید عاطفشعر و شاعری
اُن کی گفتار کو سمجھتے ہیں
بشریٰ سعید عاطف کی ایک اردو غزل
اُن کی گفتار کو سمجھتے ہیں
لفظ کے وار کو سمجھتے ہیں
دیجیے مت کوئی وضاحت اب
خوب کردار کو سمجھتے ہیں
حق میں مظلوم کے اُٹھے جو ، ہم
ایسی تلوار کو سمجھتے ہیں
مفلسی نے کیا اُنہیں مجبور
اُن کے انکار کو سمجھتے ہیں
میرے غم کا کرے مداوا جو
اپنے غمخوار کو سمجھتے ہیں
پسِ منظر ہے کچھ کہانی اور
رہ کی دیوار کو سمجھتے ہیں
زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں
ٹوٹی پتوار کو سمجھتے ہیں
کس کی صحبت کا ہے اثر اُن پر
بدلے اطوار کو سمجھتے ہیں
اُن کو لینی سبھی پہ ہے سبقت
تیز رفتار کو سمجھتے ہیں
دوست دشمن کا فرق ہے معلوم
اپنے اغیار کو سمجھتے ہیں
دھوپ سے یہ بچا کے رکھیں گے
سایہ اشجار کو سمجھتے ہیں
اک تبسّم پہ مر مٹیں لیکن
ہم خریدار کو سمجھتے ہیں
اٌن کے ہاتھوں سے جو ملے بشریٰؔ
گُل اُسی خار کو سمجھتے ہیں
بشریٰ سعید عاطف








