آپ کا سلاماردو غزلیاتسلمیٰ سیّدشعر و شاعری

درد ہمدرد سے پیارا تو نہیں ہوسکتا

ایک غزل از سلمی سید

درد ہمدرد سے پیارا تو نہیں ہوسکتا
آپ کے ساتھ گزارہ تو نہیں ہوسکتا

آپ دل کش ہیں دل فریب بھی ہیں
دیکھئے عشق دوبارہ تو نہیں ہوسکتا

یا تو آغازِ سفر میں ہی پلٹ جانا تھا
بیچ دریا میں کنارہ تو نہیں ہو سکتا

مالکِ کُل کو بنایا گیا تھا ان میں گواہ
ایسی قسموں کا کفارہ تو نہیں ہوسکتا

اپنی تنہائی کو رنگین بنانے کے لئے
اس کا نقصان گوارہ تو نہیں ہو سکتا
سلمیٰ سید

سلمیٰ سیّد

قلمی نام سلمیٰ سید شاعری کا آغاز۔۔ شاعری کا آغاز تو پیدائش کے بعد ہی سے ہوگیا تھا اسوقت کے بزرگوں کی روایت کیمطابق گریہ بھی خاص لے اور ردھم میں تھا۔۔ طالب علمی کے زمانے میں اساتذہ سے معذرت کے ساتھ غالب اور میر کی بڑی غزلیں برباد کرنے کے بعد تائب ہو کر خود لکھنا شروع کیا۔ناقابل اشاعت ہونے کے باعث مشق ستم آج تلک جاری ہے۔اردو مادری زبان ہے مگر بہت سلیس اردو میں لکھنے کی عادی ہوں۔ میری لکھی نظمیں بس کچھ کچے پکے سے خیال ہیں میرے جنھیں آج آپ کے ساتھ بانٹنے کا ایک قریبی دوست نے مشورہ دیا۔۔ تعلیمی قابلیت بی کام سے بڑھ نہ سکی افسوس ہے مگر خیر۔۔مشرقی گھریلو خاتون ایسی ہی ہوں تو گھر والوں کے لیے تسلی کا باعث ہوتی ہیں۔۔ پسندیدہ شعراء کی طویل فہرست ہے مگر شاعری کی ابتدا سے فرحت عباس شاہ کے متاثرین میں سے ہوں۔۔ شائد یہی وجہ ہے میری نظمیں بھی آزاد ہیں۔۔ خوبصورت شہر کراچی سے میرا تعلق اور محبت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button