- Advertisement -

نظروں سے ہو گئی غلطی

تہمینہ مرزا کی ایک اردو غزل

نظروں سے ہو گئی غلطی دیکھ کر تجھ کو
جانے کا ارادہ ہوا ملتوی دیکھ کر تجھ کو

لمحہ ہے، پلٹ بھی سکتا ہے تیرے آنے پر
میں بھی پلٹوگی یا نہی دیکھ کر تجھ کو

وہ جو کرنی تھی بات کیا تھی آخر
بھول گئی ہے بات وہی دیکھ کر تجھ کو

اک مصرع دوسرے سے مل رہا ہی نہیں
عجلت میں لکھی جو شاعری دیکھ کر تجھ کو

جو محبت سو چکی تھی مجھ میں
ممکن ہے وہی ہے جاگی دیکھ کر تجھ کو

یہ نہی کہ دو نین ہوئے ہیں بے بس
پاگل ہو گئ ساری کی ساری دیکھ کر تجھ کو

لفظوں کی بندھ گئی ہے گرہ پھر تو
روک گئی میری کہانی دیکھ کر تجھ کو

خلل پڑتا ہے پلکوں کے جھپکنے سے بھی
دل یہ چاہے رہوں میں دیکھتی دیکھ کر تجھ کو

پلو دانتوں میں دبائے بڑی آنکھوں سے
خود پہ میں خود ہی ہنسی دیکھ کر تجھ کو

وہ تیرا لمس چمکتا تھا میرے ماتھے پہ
بارہا رہی ہوں سوچتی دیکھ کر تجھ کو

چل پڑی جو تیری طرف ہے تحمینہ
راستہ لگے ہے پگڈنڈی، دیکھ کر تجھ کو

تہمینہ مرزا

  1. زین چیمہ کہتے ہیں

    بہت اچھا شعر سلامت رہیں اور ایسے ہی لکھتی رہیں
    اک مصرع دوسرے سے مل رہا ہی نہیں
    عجلت میں لکھی جو شاعری دیکھ کر تجھ کو

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از محمود کیفی