آپ کا سلاماردو غزلیاتارم زہراشعر و شاعری
فلک پہ چاند دھرتی پر نظارے رقص کرتے ہیں
ارم زہرا کی ایک اردو غزل
فلک پہ چاند دھرتی پر نظارے رقص کرتے ہیں
میں شب کو بام پر آؤں ستارے رقص کرتے ہیں
ترے آنے پہ جو اکثر خوشی سے میں پکڑتی ہوں
مرے ہاتھوں کو چھوکر وہ غبارے رقص کرتے ہیں
شب فرقت کو میں جب زندگی میں جوڑنا چاہوں
جدائی میں اٹھائے جو خسارے رقص کرتے ہیں
کبھی ہاتھوں میں لے کر ہاتھ ہم چلتے ہیں ساحل پر
جو پاؤں پانی میں رکھیں کنارے رقص کرتے ہیں
نہ جانے کیوں اچانک اپنی آنکھیں بند کرتی ہوں
ترے شانوں پہ جب گیسو ہمارے رقص کرتے ہیں
کبھی نظریں چرا کر تیری جانب دیکھ لیتی ہوں
تری آنکھوں میں دیکھوں تو اشارے رقص کرتے ہیں
ارم زہرا








