آپ کا سلاماردو غزلیاتارم زہراشعر و شاعری

فلک پہ چاند دھرتی پر نظارے رقص کرتے ہیں

ارم زہرا کی ایک اردو غزل

فلک پہ چاند دھرتی پر نظارے رقص کرتے ہیں
میں شب کو بام پر آؤں ستارے رقص کرتے ہیں

ترے آنے پہ جو اکثر خوشی سے میں پکڑتی ہوں
مرے ہاتھوں کو چھوکر وہ غبارے رقص کرتے ہیں

شب فرقت کو میں جب زندگی میں جوڑنا چاہوں
جدائی میں اٹھائے جو خسارے رقص کرتے ہیں

کبھی ہاتھوں میں لے کر ہاتھ ہم چلتے ہیں ساحل پر
جو پاؤں پانی میں رکھیں کنارے رقص کرتے ہیں

نہ جانے کیوں اچانک اپنی آنکھیں بند کرتی ہوں
ترے شانوں پہ جب گیسو ہمارے رقص کرتے ہیں

کبھی نظریں چرا کر تیری جانب دیکھ لیتی ہوں
تری آنکھوں میں دیکھوں تو اشارے رقص کرتے ہیں

ارم زہرا

post bar salamurdu

ارم زہرا

شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں نسائی لب و لہجے کی توانا آواز ہیں شاعری افسانے سفرنامے اور کراچی کی تاریخ پر کتابیں کامیابی کے مراحل طے کر چکی ہیں-ارم زہرا روشنیوں کے شہر کراچی میں 8 دسمبر کو پیدا ہوئی ہیں ۔ کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کی شخصیت تہہ در تہہ ہے اور ہر تہہ اپنے اندر ایک بھر پور حوالہ رکھتی ہے۔ ناول نگار،افسانہ نگار،کالم نگار، کہانی کار اور شاعر ہ کی حیثیت سے ہر پہلو مکمل اکائی ہے۔ان کی تخلیقات میں جذبوں کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے ۔ان کی تحریر یں قاری کو فکروعمل کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کا تعلق شعبہ تدریس سے ہے جس کا یہ پوری طرح حق اداکر رہی ہیں ۔ان کے کالموں میں تعلیمی مسائل کو احسن انداز میں اجاگرکیا جاتا ہے۔ ارم زہراء مختلف میگزین میں ایڈیٹنگ اور ٹی وی پہ ہوسٹنگ کے فرائض بھی انجام دے چکی ہیں۔ان کی اب تک چار کتب۔جن میں نثر میں چاند میرامنتظر “،” میرے شہر کی کہانی“،” ادھ کھلا دریچہ “ ’’اُف اللہ ‘‘جبکہ شعری دل کی مسند“ کتاب گھروں کی زینت بن چکے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button