- Advertisement -

"میرے پاس تم ہو”

ایک کالم از محبوب صابر

"میرے پاس تم ہو”

رعونت، تکبر اور قدرے خبط میں مبتلا، انتہائی کج فہم مگر خود ساختہ عقل و بینش کا ممبع ایک حادثاتی طور پر وقوع پزیر ہونے والا ڈرامہ نگار جس کی باتوں اور انداز سے یوں لگتا ہے کہ وہ فہم و ادراک اور علم و فراست کا کوئی قدیم یونانی دیوتا ہے اورجس کے قلم سے نکلا ہوا ہر لفظ ستائش اور پزیرائی کا حقدار ہے، جو بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ڈائریکٹر کی کیا جُرائت کہ میرا لکھا بدل سکے، اداکار!! ارے وہ کہاں اس قابل کہ میرے لکھے پر مشورہ بھی دے سکے ــــــــ اس قدر گھٹیا اور سطحی سا موضع لیکر اِتراتا پھرے گا اور بہت سستا سا روائیتی اختتام اپنے ڈرامے کا کرے گا، مجھے اور مُجھ جیسے لاکھوں ادب کے طالبعلموں کو اس کا ادراک تو تھا مگر وہ یوں اپنی تہذیب، ثقافت ، مذہب ، معاشرت اور قلم کی حُرمت کو پامال کرے گا اس کا شائبہ تک نہیں تھا- جس معاشرے میں باقاعدہ تعلیم کا فقدان ہو اور جہاں کی درسگاہیں بھی علمی معیار کی تنزلی کیساتھ ساتھ بنیادی تربیت کی اہمیت و حساسیت سے نا آشناہوں، وہاں ایسے سستے موضوعات ہی نمو پاتے ہیں- وگرنہ تو ہندو پاک کو عصمت چُغتائی، قرۃالعین حیدر، امرتا پریتم ، کرشن چندر، منٹو، اشفاق احمد، ممتاز مفتی، بانو آپا, عطا الحق قاسمی، مستنصر حسین تارڑ، امجد اسلام امجد اور نہ جانے کتنے ہی بڑے بڑے کہانی کار قدرت کی طرف سے ودیعت ہوئے جنہوں نے اپنی تحریوں سے تہذیبِ انسانی ، غیر مرعی کیفیات اور معاشرتی ریوں کی ایسی دلکش لفظی تزئین وتجسیم کی کہ قارئین اور ناظرین کے قلوب و اذہان آج تک انہیں حسین اور طلسماتی منظروں کی گرفت میں ہیں- الفاظ اور اُن کی تکریم سے آگہی فطرت کا ایسا خوبصورت انعام ہے جس کے باعث کوئی بھی لکھنے والا اپنی بڑی سے بڑی تخلیق میں بھی برکت اور مذید توفیق کا طالب ہوتا ہے وہ لفظ کی شدت اور ملائمت کا فکری شعور رکھنے کے ساتھ ساتھ اُس کی اثرپزیری اور اُس کے استعمال کے ہُنر سے بھی واقف ہوتا ہے-

ساری دنیا کے ادیب اور قلمکار اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ الفاظ مرہم ہیں گھاؤ نہیں، الفاظ عزت و توقیر کے علمبردار ہیں بے حُرمتی اور بے توقیری کے نہیں، الفاظ خوشی و انبساط کا گہوارہ ہیں یاسیت اور دُکھ کا جہنم نہیں، الفاظ دل میں لہلانے والے وہ خوش رنگ پھول ہیں جن کی مہکار کئی زمانوں تک اندر کے موسموں کو ہرا بھرا اور معطررکھتی ہے نا کہ جن کی تمازت اور کُھردرا پن احساس کو چھلنی کر کے رکھ دے- یہی وجہ ہے کہ دُنیا بھر میں مزاحمتی ادب وہ پزیرائی حاصل نہیں کر سکا جو مقبولیت اور ستائش محبت بھرے گیتوں، اشعار، کہانیوں اور محبت کے مضامین کا احاطہ کرنے والے الفاظ کا مقدر ہوئی- سخت اور بدنما الفاظ کے زریعے شہرت کی خواہش ذہنی بیماری تو ہوسکتی ہے تخلیق نہیں ـ یہ الفاظ ہی ہیں جو کسی کی بھی شخصیت کے ترجمان ہوتے ہیں انہیں کی روشنی میں پرورش، تعلیم، ماحول اور رحجانات کا تعین کیا جاتا ہے- ایسے الفاط اگر قرطاس پر نمودار ہوں تو وہ قاری کی بینائی جُھلسا رہے ہوتے ہیں ـ ڈرامے کی کہانی اور بالخصوص برقی میڈیا پر ڈرامے کیساتھ جُڑے بہت سے عوامل اُس میں کشش اور توجہ کا باعث ہوتے ہیں، خود فنکاروں کا سراپا، سیٹ، روشنیاں، ادائیگی ، بیک گراؤنڈ میوزک، اور ملبوسات عام فہم ناظر کی توجہ بٹائے رکھتے ہیں اور ایک سطحیت کا حامل لکھاری اسی چالاکی کو اپنی کامیابی تصور کرتا ہے- رنج و الم سے کراہتی اور دکھوں پر ماتم کناں ایک عورت حقیقی زندگی میں اور حقیقی دُکھ پر وہ توجہ حاصل نہیں کر سکتی جو پردہ سکرین پر ایک حسین و جمیل خاتون، اعلی لباس زیب تن کیئے عمدہ میک اپ کیساتھ حاصل کرہوتی ہے حالانکہ اُس کا غم بھی نقلی ہوتا ہے۔ اس ڈرامے کی کہانی میں ماہم ہی خلیل الرحمن قمر کے گھر کے ماحول کی اصل عکاس ہے جو شہوار کو معاف تو کر دیتی ہے مگر اُس کو اُس کی غلطی کا احساس دلانے کیلئے ہر لمحہ اُس کی تضحیک اور عزتِ نفس کو مجروح کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے- وہ اسی طرح مہوش کو نواز کر بھی اُس کی تذلیل کرتی ہےـ ایسے لوگ دکھاوے کے حساس اور تہذیب یافتہ تو ہو سکتے ہیں مگر ان کا اندر حیوانیت سے لبریز ہوتا ہےـ شائد کسی ایسی ہی ماہم نے اُس کو بھی پروان چڑھایا کہ وہ عورت کو "دوٹکے کی” یا ” دوسرے درجے کی عورت” کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا- دانش کے روپ میں وہ ایک ایسا کمینہ صفت بدلہ لینے والا نظر آتا ہے کہ جو عام خود ساختہ مہذب لوگوں کی طرح مُنہ سے تو اظہار نہیں کرتا مگر آسائیشوں کے حصول اور معاشی فراوانی ہی کو دوسرے کیلئے سزا اور پچھتاوا سمجھتا ہےـ شہوار اُس کی استحصالی سوچ کا آئینہ دار ہے اورمہوش بھی کوئی اُس کے اندر ہی کی محرومی معلوم ہوتی ہے جس کے حصول کیلئے وہ کسی حد تک بھی گِر سکتا ہےـ رومی جس کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ وہ خود ہے، نظر اندازی اور غُربت کا شکار گھروں کے درجنوں بچے گلی محلوں میں ایسی ہی پیغام رسانی کر رہے ہوتے ہیں ـ اُستانی بھی ہمیشہ ہی سے کمزور اور غیر شائستہ لوگوں کا آسان ہدف رہی ہے سو اُس نے یہاں بھی عورت کی تقدیس اور پیغبرانہ پیشے کا تمسخر اُڑایا-نفسیات میں احساسِ کمتری کا علاج تو ممکن ہے مگر احساسِ برتری کا شکار لوگوں کو ٹھیک کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، وہ ابو جہل ہو یا فرعون ایسی ہی لاعلاج بیماری کیوجہ سے نشانِ عبرت بنےـ متین کے روپ میں وہ اپنے گناہوں کا کفارہ اور اپنی بد عملیوں کا بھوندا اعتراف کرتے ہوئے نظر تو آتا ہے مگر اُس کی توجہیات بھی تراشتا ہےـ

دانش کا دوست خالصتاََ مادیت پرست اور اُس کی بیوی خیل الرحمن کے گرد ہی موجود کوئی کردار ہے جو مذہب اور معاشرت سے ناواقف طلاق جیسی شرعی پابندی کے باوجود مہوش کے دل میں دانش سے دوبارہ ملنے اور اُس کے واپس پلٹ آنے کی اُمید روشن کر رہی ہےـ ایسی لغویات پر اِترانا کسی سلیم العقل شخص کا شعار تو ہر گز نہیں ہو سکتاـ اُس پر مُستزاد یہ کہ وہ کہتا تھا کہ کمزور دل حضرات میرے لکھے اس منفی کیفیات کے عکاس ڈرامے کی آخری قسط پاس دوائیاں رکھ کر دیکھیں ـ کیسا مکار اور ” دوسرے درجے” کا سیلز مین ہے جو مٹی مِلا گُڑ کا شربت شہد بنا کر بیچ رہا تھا- کیونکہ اس ساری تشہیر کے پیچھے ایک بہت بڑا سرمایا دار گروپ کارفرما تھا جو اپنی پراڈکٹ بیچنے کیلئے اس لکھاری کو اُردو ڈرامے کا سب بڑا سرخیل ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھاـ اب اِس ” دوٹکے کے ڈرامے کےاختتام” پر جب وہ کوئی ایسا تیر نہیں چلا سکا سواۓ ایک شخص کو مرتا ہوا دکھا کر لوگوں کی خوف بھری ہمدردیاں سمیٹنے کے، تو اُسے چاہیئے کہ انہیں گھٹیا جملوں کو تماچے بنا کر اپنے ہی چہرے پر برسائے تاکہ پھر کوئی ” دوٹکے” کا نچلے درجے کا لکھاری معصوم ، سادہ لوح اور کم پڑھے لکھے لوگوں کا وقت برباد نہ کرے اور اُن کے جذبات سے کھیلنے کی بجائے اُن کیلئے ڈرامے کو صرف ہلکی پھلکی تفریح ہی سے تعبیر کرے نہ کہ کوئی مافوق الفطرت شے ثابت کرنے کی شعبدہ بازی کرے

محبوب صابر
 سیالکوٹ
25-01-2020

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Ghazal By Shakeel Badayuni