اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

دل نے اظہار غم پہ اکسایا

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

دل نے اظہار غم پہ اکسایا
آپ کی برہمی کا وقت آیا

کون سے راستے پہ چل نکلے
جس نے دیکھا اسی نے سمجھایا

اور بھی تلخ ہو گیا جینا
وضعداری کا جب خیال آیا

ہر تمنا سے بے نیاز ہوئے
یوں بھی دامان زیست پھیلایا

جانے کس غم میں سوئے تھے باقیؔ
آنکھ کھلتے ہی کوئی یاد آیا

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button