آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

عالمی دیگ

اکرم ثاقب کا ایک اردو کالم

عالمی دیگ: مفادات کا مصالحہ اور شناخت کا زوال
صدیوں پرانی ضرب المثل ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا، مگر 2026 کے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے اور "کوا صفت” سیاست نے اس مقولے کی روح ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ آج کا کوا اتنا خود اعتماد اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو چکا ہے کہ اس نے ہنس کو تالاب کے کنارے صرف حسرت بھری ڈائری لکھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کاش اس نے بھی وقت رہتے اپنی نزاکت چھوڑ کر تھوڑی سی عیاری سیکھ لی ہوتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اب دنیا ہنس کی فطری چال کو بھول کر کوے کی ہوشیاری کو عقلِ کل مان چکی ہے، جہاں شرافت اور اصول پسندی کو "سیاسی یتیمی” اور مکاری و موقع پرستی کو "ذہانت” کا خوبصورت لبادہ پہنا دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ایوانوں سے لے کر واشنگٹن کے تندور تک، جہاں آج کل جنوبی ایشیا کی روٹیاں لگ رہی ہیں، ہر طرف ایک ہی شور ہے کہ اب وہی جئے گا جو جھپٹنا اور چھیننا جانتا ہو۔
دنیا کے نقشے پر موجود 195 ممالک، جن میں 193 مستقل ارکان اور دو مبصر ریاستیں شامل ہیں، دراصل ایک ایسی بساط کے مہرے ہیں جہاں ہر کھلاڑی اپنی اصل شناخت کی قبا اتار کر دوسروں کی نقالی میں مصروف ہے۔ اس میوزیکل چیئر کے کھیل میں ریاستیں صرف جغرافیائی طور پر نہیں بلکہ نظریاتی طور پر بھی تحلیل ہو رہی ہیں، اور المیہ یہ ہے کہ بڑی طاقتوں کی "کوا چال” چلنے کی کوشش میں چھوٹی ریاستیں اپنی خود مختاری کا تیا پانچا کر لیتی ہیں۔ آج کل کا "کوا ازم” یہ سکھاتا ہے کہ اگر آپ کسی کے باورچی خانے سے چپکے سے پنیر کا ٹکڑا اٹھائیں تو وہ چوری کہلائے گی، لیکن اگر وہی کوا ایک پروقار پریس کانفرنس بلائے، ہاتھ میں چارٹر آف ڈیموکریسی لہرائے اور یہ دعویٰ کرے کہ اس پنیر کی تقسیم سے خطے میں جمہوری استحکام اور غذائی تحفظ آئے گا، تو پوری دنیا اسے "اعلیٰ درجے کی سفارت کاری” تسلیم کر کے تالیاں بجائے گی۔
یہ نیت اور بیانیے کا وہ گورکھ دھندہ ہے جس نے چور کے ہاتھ سے کٹا چھین کر اسے ایم او یو (MoU) تھما دیا ہے، کیونکہ کٹا جیل لے جاتا ہے جبکہ ایم او یو جی-20 کے شاہانہ ڈنر کا ٹکٹ ثابت ہوتا ہے۔
جدید دور کی سفارت کاری میں چوری اور ڈاکے کو "نیشنل انٹرسٹ” کا نام دے کر اسے ایک مقدس فریضہ بنا دیا گیا ہے۔ اگر کوئی طاقتور ملک کسی کمزور کی سرحدیں پامال کر کے وہاں کا بیڑا غرق کرے اور اسے انسانی حقوق کی بحالی کا نام دے دے، تو عالمی برادری اسے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کر دیتی ہے، لیکن یہی حرکت اگر بغیر "ویٹو پاور” کے کوئی چھوٹا کوا کرے تو اسے فوراً انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کا بلاوا آ جاتا ہے۔ یہ سراسر "کوا لاجک” ہے جہاں قانون صرف ان کے لیے ہے جن کے پر جھڑ چکے ہیں، جبکہ برانڈڈ سوٹ پہننے والے کووں کے لیے ہر جرم ایک "تاریخی تصحیح” یا "اسٹریٹجک الائنمنٹ” کہلاتا ہے۔
2026 کا سنہری اصول یہی ہے کہ چوری صرف وہ ہے جس کا ثبوت سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائے، ورنہ باقی سب کچھ تو بین الاقوامی تعلقات کی وہ نزاکت ہے جس کی تشریح تھنک ٹینک والے اپنے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر کرتے ہیں۔
اس عالمی دیگ میں، جہاں 195 ملکوں کے مفادات پک رہے ہیں، ہنس کی شرافت کا گوشت ڈھونڈنا فضول ہے، یہاں صرف کوے کی کائیں کائیں اور اس کی ہوشیاری کا مصالحہ کام آتا ہے۔ جو کوا جتنا اونچا شور مچائے گا، اسے اتنا ہی بڑا بیل آؤٹ پیکیج اور مراعات کا نوالہ ملے گا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس دوڑ میں شامل ممالک اپنی جڑوں سے کٹ کر ایسے ہنس بننا چاہتے ہیں جن کی پرواز دوسروں کے مرہونِ منت ہو، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ادھار کی چال سے منزل نہیں ملتی بلکہ صرف تذلیل ملتی ہے۔ لہٰذا، آج کے دور میں بقا کا راز اس میں ہے کہ اپنی اصل پہچان کو "ری برانڈنگ” کے نام پر قربان نہ کیا جائے، کیونکہ جو اپنی فطری چال بھول جاتا ہے وہ نہ ادھر کا رہتا ہے نہ ادھر کا۔ عالمی سیاست کے اس تماشے میں منہ سے عالمی امن کا ورد کرنا اور ہاتھ سے دوسرے کی جیب کاٹنا ہی وہ فن ہے جسے اب دنیا "کامیاب خارجہ پالیسی” تسلیم کر چکی ہے، اور جو اس فن میں ماہر نہیں، وہ تاریخ کے کوڑے دان میں ایک مٹ جانے والی شناخت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

اکرم ثاقب

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button