- Advertisement -

پوچھتے مت کیوں بنی سوگواری کی حالت

ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل

پوچھتے مت کیوں بنی سوگواری کی حالت
دیکھ لیتے جو مری دل فِگاری کی حالت

جسم کانٹا ،لہو برساتی آنکھیں ہیں میری
لوگ کہتے ہیں اِسے انتظاری کی حالت

اک ملاقات مجھے زندگی بخشے گی یار
چہرے پر کیوں بنی ہے ناگواری کی حالت

وہ ملیں زندگی سے ہم بھی کنارہ کش ہوں
بن چکی زندگی سے رُستگاری کی حالت

بال بکھرے ، اُڑا سا رنگ ترا ، بے چینی
پھر ملاقات میں بھی اختصاری کی حالت

بات کرتے تجھے فرصت جو ملی ہوتی مگر
دیکھی دل میں ترے بے اعتباری کی حالت

زندگی ساتھ چلےگی لےکےدکھ سکھ عاجز
خوبصورت ہے بہت ہمکناری کی حالت

ڈاکٹرمحمد الیاس عاجز

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل