- Advertisement -

توبۃ النصوح – فصل اوّل

شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد کا تیسرا ناول

توبۃ النصوح – فصل اوّل

ایک برس دہلی میں ہیضے کی بڑی سخت وبا آئی۔ نصوح نے ہیضہ کیا اور سمجھا کہ مرا چاہتا ہے۔ یاس کے عالم میں اس کو مواخذہ عاقبت کا تصور بندھا۔ ڈاکٹر نے اس کو خواب آور دوا دی تھی۔ سو گیا تو وہی تصوّر اس کو خوابِ موحش بن کر نظر آیا

اب سے دور ایک سال دہلی میں ہیضے کا اتنا زور ہوا کہ ایک حکیم بقا کے کوچے سے ہر روز تیس تیس چالیس چالیس آدمی بھیجنے لگے۔ ایک بازار موت تو البتہ گرم تھا، ورنہ جدھر جاؤ سناٹا اور ویرانی، جس طرف نگاہ کرو وحشت و پریشانی۔ جن بازاروں میں آدھی آدھی رات تک کھوے سے کھوا چھلتا تھا ایسے اجڑے پڑے تھے کہ دن دوپہر کو بھی جاتے ہوئے ڈر معلوم ہوتا تھا۔ کٹوروں کی جھنکار موقوف، سودے والوں کی پکار بند۔ ملنا جلنا، اختلاط و ملاقات، آمد و شد، بیمار پرسی و عبادت، باز دید زیارت، مہمان داری و ضیافت کی کل رسمیں لوگوں نے اٹھا دیں۔ ہر شخص اپنی حالت میں مبتلا، مصیبت میں گرفتار، زندگی سے مایوس۔ کہنے کو زندہ پر مردہ سے بدتر۔ دل میں ہمت نہ ہاتھ پاؤں میں سکت۔ یا تو گھر میں اٹوانٹی کھٹوانٹی لے کر پر رہا یا کسی تیمار داری کی یا کسی یار آشنا کا مرنا یاد کر کے کچھ رو پیٹ لیا۔ مرگِ مفاجات حقیقت میں انہیں دنوں کی موت تھی، نہ سان نہ گمان، اچھے ے خاصے چلتے پھرتے، یکایک طبیعت نا مالش کی، پہلی ہی کلی میں حواس خمسہ مختل ہو گئے۔ الا ماشاء اللہ کوئی جزئی بچ گیا تو بچ گیا، ورنہ جی متلانا اور قضائے مبرم کا آ جانا۔ پھر وصیت کرنے تک کی مہلت نہ تھی۔ ایک پاؤ گھنٹے میں تو بیماری، دوا، دعا جان کنی اور مرنا سب ہو چکتا تھا۔

غرض کچھ اس طرح کی عالم گیر وبا تھی کہ گھر گھر اس کا رونا پڑا تھا۔ دو پونے دو مہینے کے قریب وہ آفت شہر میں رہی مگر اتنے ہی دنوں میں شہر کچھ ادھیا سا گیا۔

صد ہا عورتیں بیوہ ہو گئیں، ہزاروں بچے یتیم بن گئے۔ جس سے پوچھو شکایت، جس سے سنو فریاد۔ مگر ایک نصوح جس کا قصہ ہم اس کتاب میں لکھنے والے ہیں کہ عالم شاکی تھا، اور وہ اکیلا شکرگزار۔ دنیا فریادی تھی اور وہ تنہا مداح۔

نہ اس سبب سے کہ اس کو اس آفت سے گزند نہیں پہنچا۔ خود اس گھر میں بھی اکٹھے تین آدمی اس وبا میں تلف ہوئے۔ اچھی خاصی طرح گھر بھر رات کو سو کر اٹھے۔ نصوح نماز صبح کی نیت باندھ چکا تھا۔ باپ بیٹے وضو کر رہے تھے۔ مسواک کرتے کرتے ابکائی آئی۔ ابھی نصوح دو گانہ فرض ادا نہیں کر چکا تھا، سلام پھیر کر کیا دیکھتا ہے کہ باپ نے قضا کی۔ ان کو مٹی دے کر آیا تو رشتے کی ایک خالی تھی، ان کو جاں بحق پایا۔ تیسرے دن گھر کی ماما رخصت ہوئیں۔ مگر نصوح کی شکر گزاری کا کچھ اور ہی سبب تھا۔ اس کا مقولہ یہ تھا کہ ان دنوں لوگوں کی طبیعتیں بہت کچھ درستی پر آ گئی تھیں۔ دلوں میں رقت و انکسار کی وہ کیفیت تھی کہ عمر بھر کی ریاضت سے پیدا ہونی دشوار ہے۔ غفلت کو ایسا کاری تازیانہ لگا تھا کہ ہر شخص اپنے فرائض مذہبی کے ادا کرنے سے سرگرم تھا۔ جن لوگوں نے رمضان میں بھی نماز نہیں پڑھی تھی، وہ بھی پانچوں وقت سب سے پہلے مسجد آ موجود ہوتے تھے۔ جنہوں نے کبھی بھول کر سجدہ نہیں کیا تھا، ان کا اشراق و تہجد تک بھی قضا نہیں ہونے پاتا تھا۔ دنیا کی بے ثباتی، تعلقات زندگی کی نا پائداری، سب کے دل پر منقش تھی۔ لوگوں کے سینے صلح کاری کے نور سے معمور تھے۔ غرض ان دنوں کی زندگی اس پاکیزہ اور مقدس اور بے لوث زندگی کا نمونہ تھی، جو نہ مذہب تعلیم کرتا ہے۔
نصوح یوں بھی دل کا کچا تھا۔ جب اس نے اول اول ننانوے کی گرم بازاری سنی تو سرد ہو گیا اور رنگت زرد پڑ گئی۔ بہ اسباب ظاہری جو تدبیریں انسداد کی تھیں سب کیں۔ مکان میں نئی قلعی پھروا دی۔

پاس پڑوس والوں کو صفائی کی تاکید کی۔ گھر کے کونوں ‌میں لبان دھونی دے دی۔ طاقوں میں کافور رکھوا دیا۔ جا بجا کوئلہ رکھوا دیا۔ باورچی سے کہہ دیا کہ کھانے میں نمک تیز رہا کرے۔ پیاز اور سرکہ دونوں وقت دسترخوان پر آیا کرے۔ گلاب، نارجیل دریائی، بادیان، تمر ہندی، سکنجبین وغیرہ وغیرہ جو جو دوائیں یونانی طبیب اس مرض میں استعمال کرتے ہیں، تھوڑی تھوڑی سب بہم پہنچا لیں۔ نصوح نے یہاں تک اہتمام کیا کہ انگریزی دوائیاں بھی فراہم کیں۔ کالر اپل کی گولیاں تو وہیں کو توالی سے لے لیں۔ کالر ا ٹنکچر الہ آباد میڈیکل ہال سے روپیہ بھیج کو منگوا کر رکھا۔ آگے سے ایک دوست کی معرفت کلوروڈائن کی دو شیشیاں خرید لیں۔ ایک اخبار میں لکھا دیکھا کہ بنارس میں ایک بنگالی حکیم علاج کرتا ھے، اور اس کی دوا بھی طلب کی۔ نصوح کو ایک وجہ تسلی یہ تھی کہ ایک طبیب حاذق اسی کے ہمسائے میں ‌رہتا تھا۔

گورو سیاہ ہیضے کے توڑ کے واسطے اتنا سامان وافر موجود تھا، مگر آخر نصوح کا گھر بھی فرشتوں کی نظر سے نہ بچا۔ باپ کی اجل آئی تو دوائیں رکھی ہی رہیں۔ دینے اور پلانے کی نوبت بھی نہ پہنچی کہ بڑے میاں سبکیاں لینے لگے۔ وہ رشتے کی خالہ تھوڑی دیر سنبھلی تھیں۔ لیکن وہ کچھ ایسی زندگی سے سیر تھیں کہ انہوں نے خود خبر کرنے میں ‌دیر کی۔ غرض دوا ان کو بھی نصیب نہ ہوئی۔ ماما نے البتہ انگریزی یونانی سب طرح کی دوائیں ڈھکوسیں۔ مگر اس کی عمر ختم ہو چکی تھی۔ اول اول نصوح کو اپنی احتیاط پر کچھ یوں ہی سا تکیہ ہوا تھا، مگر جب وبا کا بہت زور ہوا اور اس کے گھر میں تابڑ توڑ ایک چھوڑ تین موتیں ہو گئیں، تو نا چار تن بہ تقدیر صبر و شکر کر کے بیٹھ رہا۔
غرض پورا ایک چلہ شہر پر سختی اور مصیبت کا گزرا۔ نہیں معلوم کتنے گھر غارت ہوئے، کس قدر خاندان تباہی میں ‌آ گئے، یہاں تک کہ نواب عمدہ الملک نے ہیضہ کیا۔ کوئی دو تین گھڑی دن چڑھتے چڑھتے شہر میں ‌یہ خبر مشہور ہوئی اور نماز جمعہ کے بعد دیکھتے ہیں جنازہ جامع مسجد کے صحن میں ‌رکھا ھے۔ یوں تو ہزار ہا آدمی شہر میں تلف ہوئے مگر عمدہ الملک کی موت سب پر بھاری تھی۔ اول تو ان کی ٹ کر کا شہر میں ‌کوئی رئیس نہ تھا، دوسرے ان کی ذات سے غریبوں کو بہت کچھ فائدہ پہنچا تھا۔ گو ان کے مرنے کا گھر ماتم تھا، لیکن لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ بس اب خدا نے ٹھنڈک ڈالی، کیوں کہ معتقدات عوام میں یہ بھی ھے کہ وبا بے کسی بڑے رئیس کے بھینٹ لئے نہیں جاتی۔ خیر لوگوں نے کچھ سمجھا ہو، یوں بھی شورش بہت کچھ فرو ہو چکی تھی اور امن و امان ہو جاتا تھا۔ لوگوں نے دکانیں بھی کھولنی شروع کر دیں اور دنیا کا کاروبار پھر جاری ہو چلا۔

انہی دنوں نصوح نے اپنی بیوی سے کہا کہ دو مہینے سے چاولوں کو ترس گئے۔ اب خدا نے اپنا فضل کیا۔ آج زردہ پکواؤ، مگر تاکید کرنا چاول کھڑے نہ رہین۔ شام کو زردہ پکا اور گھر کے چھوٹے بڑے سب نے کھایا اور حسبِ عادت سو رہے۔ کوئی پہر رات باقی رہی ہو گی کہ دفعتہً نصوح کی آنکھ کھل گئی۔ جاگا تو پیٹ میں ‌آگ پھنکی ہوئی تھی۔ اٹھتے اٹھتے طبیعت نے کئی مرتبہ مالش کی۔ اس نے ننگے سر جلدی سے صحن میں نکل کر ٹہلنا شروع کیا۔ خوب کس کے دونوں بازو باندھے۔ گلے میں توے کی سیاہی تھوپی۔ عطر کا پھویا ناک میں رکھا اور طبیعت کو دوسری طرح مصروف کیا۔ مگر معلوم ہوتا تھا کہ حلق تک کوئی چیز بھری ہوئی ہے۔ بہتیرا ضبط کیا، بہتیرا ٹالا، آخر بڑے زور سے استفراغ ہوا۔ گھر والے سب جاگ اٹھے۔ نصوح کو اس حالت میں ‌بیٹھے ہوئے دیکھ کر سب کے کلیجے دھک سے رہ گئے۔ کوئی پانی اور بیسن لے کر دوڑا۔ کوئی الائچی ڈال پان بنا پاس آ کھڑا ہوا۔ کوئی پنکھا جھلنے لگا۔ نصوح کو تو لا کر چار پائی پر لٹا دیا اور اب سب لوگ لگے اپنی اپنی تجویزیں کرنے۔

کسی نے کہا خیریت ہے غذا تھی۔ کوئی بولا زردے میں گھی بُرا تھا۔ کوئی کہنے لگا کھر چن کا فساد ہے۔ غرض یہ صلاح ہوئی کہ ہیضہ وبائی نہیں ہے۔ گلاب اور سونف کا عرق دیا جائے اور گھبرانے کی بات نہیں۔ صبح تک طبیعت صاف ہو جائے گی۔

پر یہ تو تیمار داروں کا حال تھا۔ نصوح اگرچہ تکان کی وجہ سے مضمحل ہو گیا تھا، مگر ہوش و حواس سب خدا کے فضل سے برجا تھے۔ سب کی صلاحیں اور تجویزیں سنتا تھا اور دوا جو لوگ پلاتے تھے پی لیتا تھا، لیکن استفراغ ہونے کے ساتھ ہی اس نے کہہ دیا تھا کہ لو صاحب خدا حافظ، ہم بھی رخصت ہوتے ہیں۔ استفراغ امتلائی مجھ کو بارہا ہوئے ہیں مگر کچھ میرا جی اندر سے بیٹھا جا تا ہے اور ہاتھوں میں سنسنی سی چلی آ رہی ھے۔ اتنا کہنے کے بعد تو نصوح دوسری ہی ادھیڑ بن میں لگ گیا اور سمجھا کہ بس اب دنیا سے چلا۔ صبح ہوتے ہوتے روایت کے کل آثار پیدا ہو گئے۔ برداطراف، تشنج و ضعف، متلی، اسہال، تشنگی، ہر ایک کیفیت اشتداد پر تھی۔ منہ اندھیرے آدمی حکیم کے پاس دوڑا گیا۔ حکیم صاحب خود خفقانی المزاج، ہیضے کے نام سے کوسوں بھاگتے تھے۔ مگر ہمسائیگی، مدت کی راہ و رسم، طوعاً و و کرہاً آئے اور کھڑے کھڑے چھدا سا اتار کر چلے گئے۔ بیماری میں تو بولنے اور بات کرنے کی بھی طاقت نہ تھی۔ ایک پہر ہی بھر کی بیماری میں چار پائی سے لگ گیا تھا۔ عور توں نے پردے میں سے جہاں تک اس گھبراہٹ میں زبان نے یاری دی، کہا۔ لیکن حکیم صاحب یہی کہے چلے گئے کہ برف کے پانی میں نارجیل دریائی گھس گھس کر پلائے جاؤ۔

تیمارداروں کو ایسی سرسری اور رواداری کی تحقیق سے کیا خاک تسلی ہوتی۔ فوراً آدمی کو شفا خانے دوڑایا اور دوا لئے صدا کی طرح آ موجود ہوا۔ اوپر تلے چار پڑیاں تو اس نے اپنے سامنے پلائیں۔ چلتے ہوئے ایک عرق دیتا گیا کہ پاؤ گھنے میں پلا کر مریض کو علیحدہ مکان میں اکیلا لٹا دینا۔ کوئی آدمی اس کے پاس نہ رہے تاکہ اس کو نیند آ جائے۔ اگر سو گیا تو جاننا کہ بچ گیا۔ فوراً ہم کو خبر دینا۔
ڈاکٹر کے حکم کے مطابق نصوح کو اکیلے دالان میں سلا کر لوگ ادھر اُدھر ٹل گئے۔ مگر دبے پاؤں، آ کر دیکھ ایکھ جاتے تھے۔ نصوح کے دل کی جو کیفیت تھی وہ البتہ عبرت انگیز تھی۔ یہ کچھ تو بیماری کا اشتداد ہوا۔ مگر ہوش و ہواس سب بدستور تھے۔ وہ اپنے خیال میں ڈوبا ہوا تھا، لوگ جانتے تھے کہ غش میں پڑا ہے۔ ابتدا میں نصوح بھی اپنی نسبت مرنے کا تصور کرنے سے گریز کرتا تھا اور انہیں چاہتا تھا کہ اپنے تئیں مرنے والا سمجھے، بلکہ جو لوگ اس کی علالت کو سؤ ہضم اور امتلا کی وجہ سے تجوز کرتے تھے، دل میں ان کی رائے کی تحسین کرتا تھا۔ لیکن افسوس یہ مسرت نصوح کو بہت ہی ذرا سی دیر تک نصیب ہوئی۔ دم بہ دم اس کی حالت ایسی ردی ہوتی جا رہی تھی کہ زندگی کے تمام تر احتمالات ضعیف تھے۔ آخر چار و نا چار اس کو سمجھنا پڑا کہ اب دنیا میں چند ساعت کا مہمان اور ہوں۔ ادغان مرگ کے ساتھ پہلا قلق اس کو دنیا کی مفارقت کا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ مرنا وہ سفر ہے جس کا انقطاع نہیں، وہ جدائی ہے کہ جس کے بعد وصال نہیں، وہ گمشدگی ہے جس کی کبھی بازیافت نہیں، وہ غشی ہے جس سے افاقہ نہیں، وہ بے گانگی ہے جس کے پیچھے کچھ تعلق نہیں۔ کبھی وہ بیوی بچوں کو دیکھ کر روتا اور کبھی سازو سامانِ دنیا پر نظر کر کے سر کو دھنتا اور کہتا:

حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد

روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد

جس جس پہلو سے غور کرتا، اس کو اپنا مرنا بے وقت معلوم ہوتا تھا۔ بیوی کو دیکھ کر اپنے جی میں سوچتا تھا کہ بھلا کوئی اس کی عمر بیوہ ہونے کی ہے۔ نہ تو کوئی اس کے میکے میں اتنا ہے اس کا متکفل ہو، نہ بیٹوں میں کوئی اس قابل ہے کہ گھر کو سنبھال لے۔ اندوختہ جو ہے سو واجبی ہی واجبی ہے۔

کب تک اکتفا کرے گا۔ دونا کد خدا بیٹیاں اس کے آگے ہیں۔ کچا ساتھ خالی ہاتھ، بچوں کی پرورش، کہیں سے کوڑی کی آمد کا آسرا نہیں۔ کیا ہو گا اور کیوں کر یہ پہاڑ زندگی اس کے کاٹے کٹے گی۔ بڑا لڑکا تو پہلے ہی گویا ہاتھ سے جا چکا ہے۔ رہا منجھلا، امسال انٹرنس پاس کرنے کو تھا اور امید تھی یہ کچھ ہو گا مگر اب وہ تمام منصوبہ بھی غلط ہوا چاہتا ہے۔ میری آنکھ بند ہوئی تو کیسا پڑھنا اور کس کا امتحان۔ یہ دو لڑکیوں کا فرض کیسے میں اپنی گردن پر لے چلا۔ بڑی کی نسبت کن کن مصیبتوں سے ٹھہری تھی اور جب میرے رہتے یہ دقت تھی تو اب ان بچیوں کا دیکھیئے کیا ہو۔ پیش بینی اور مال اندیشی کر کے پارسال گاؤں ‌لیا تھا۔ ابھی تک پٹی داروں نے اس میں اچھی طرح تسلط نہیں بیٹھنے دیا۔ اب جو چالیس پچاس بیگھ سیر کر کے نیل بو لیا ہے وہ سب گیا گزرا ہوا۔ گودام پر جو روپیہ لگا دیا تھا وہ بھی ڈوبا۔ رہنے کے مکان میں کس قدر تنگی سے بسر ہوتی ہے۔ کوئی مہمان آ نکلتا ہے تو شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ شمال رویہ دالان در دالان بنوانے کا ارادہ تھا۔ ڈیرہ دون لکڑی کا روپیہ بھیج چکا ہوں، وہ نہیں آئی۔ پزاوے والوں کو اینٹوں کی دادنی دی تھی، وہ نہیں پٹی۔ افسوس کہ موت نے مجھے مہلت نہ دی۔ لوگوں کا لینا دینا، حساب کتاب، بڑے بکھیڑے ہیں۔ آج سمجھانے بیٹھوں تو مہینوں میں جا کر طے ہوں تو ہوں۔ اجل سر آ پہنچی۔ تمام لینا لوانا مارا پڑا۔ اے کاش کچھ نہیں تو میں دس بارہ برس ہی اور جی جاتا تو یہی سب انتظام اپنی خواوہی کے مطابق درست کر لیتا۔ بال بچے بھ ذرا اور سیانے ہو جاتے، کھانے کمانے لگتے۔ ادھر ان کی شادی بیاہ کر چکتا۔ گاؤں کا معاملہ بھی رو براہ ہو جاتا، مکان کو اپنے طور پر بنا لیتا، لوگوں کا حساب کتاب سب صاف کر دیتا، گھر والی کے واسطے کچھ ذخیرہ وافر فراہم کر جاتا، تب فراغت سے مرتا۔ کیا مرنے میں مجھ کو کچھ عذر یا خدانخواستہ کسی طرح کا انکار تھا، یا میں اتنی ذرا سی بات نہیں سمجھتا کہ دنیا میں آ کر مرنا ضرور ہے۔

مگر ہر چیز ایک وقت مناسب پر ٹھیک ہوتی ہے۔ یہ بھی کوئی مرنا ہے کہ ہر ایک کام کو ادھورا، ہر ایک انتظام کو ناقص و ناتمام چھوڑ کر چلا جاؤں۔ ایسا بے ہنگام مرنا نہ صرف میرے لئے بلکہ میرے تمام متعلقین اور وابستگان کے لئے موجبِ زیاں اور باعثِ نقصان ہے۔

اگرچہ نصوح بہ نظر ظاہر ایک آزاد اور بے گانہ وار زندگی بسر کرتا تھا۔ نہ تو ہر وقت گھر میں گھسے رہنے کی اس کو خو تھی، نہ بال بچوں ہی سے کچھ بہت اختلاط کرنے کی عادت۔ انتظامِ خانہ داری میں بھی بی بی کے تقاضے اور اصرار سے بہ قدرِ ضرورت کچھ دخل دیا تو دیا، ورنہ اس کو بھی چنداں پرواہ نہ تھی اور یہی سبب تھا کہ جب بھی سننے کا اتفاق ہوتا کہ فلاں شخص نے بڑی حسرت کے ساتھ جان دے دی، تو نصوح کو تعجب ہوتا اور کہتا کہ خدا کی شان ہے، ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں کہ دنیا سے نکلنے کو ان کا جی ہی نہیں چاہتا۔ نہیں معلوم کہ دنیا کی کونسی ادا ان کو پسند ہوتی ہے، ورنہ استغفراللہ، یہ دارالمحسن انسان کے رہنے کے لائق ہے؟ صدہا بکھیڑے، ہزار ہا مخمصے، روز کے جھگڑے، آئے دن کی مصیبت۔ سچ ہے، خدا تعالیٰ کا کوئی فعل حکمت اور بندوں کی مصلحت سے خالی نہیں۔ ظاہر میں تو موت سب کو بری معلوم ہوتی ہے اور اس سے لوگ ایسے ڈرتے ہیں جیسے مجرم سزا سے، لیکن غور کر کے دیکھو تو مرنا بھی ایک نعمت ہے۔ انسان کی طبیعت تازگی پسند واقع ہوئی ہے۔ جہاں ایک حالت سال ہا سال رہی، گو وہ حالت کیسی ہی عمدہ اور پسندیدہ کیوں نہ ہو، خواہ مخواہ آدمی اس سے ملول ہو جاتا ہے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کے ہمراہی من و سلوا کھاتے کھاتے ایسے اکتائے کہ آخر کو ان کے دل لہسن و پیاز پر للچائے۔ اگر دنیا میں ‌موت نہ ہوتی تو آدمی کنوؤں میں کود کود کر اور درختوں سے گر گر کر جان دیتے اور حیات دراز کو عذاب مقیم سمجھتے۔ میرے دل کی تو یہ کیفیت ہے کہ مجھ کو یہاں سے چلے جانے کی مطلق پرواہ نہیں اور کسی چیز کو میں نہیں سمجھتا کہ مجھ کو اس کی مفارقت کا قلق ہو۔ لیکن بڑا فرق ہے، فرض اور واقعات میں۔

یہ بھی نصوح کے نفس کا م کر تھا کہ وہ اپنے تئیں دنیا سے بے تعلق اور اپنی زندگی کو بے ہمہ و با ہمہ سمجھتا تھا۔ جب تک وہ دوسروں کو مرتا دیکھتا تھا اپنے تئیں مرنے پر دلیر پاتا تھا۔ لیکن جب خود اپنے سر پر آن بنی تو سب سے زیادہ بودا نکلا۔ وہ اپنے تعلقات سے واقع میں اب تک بے خبر تھا۔ جب موت سامنے آ موجود ہوئی اور چلنا ٹھہر گیا تو حقیقت کھیل کہ ادھر زن و فرزند کا فریفتہ ہے اُدھر مال و متاع کا دل دادہ۔ اتنا بڑا تو سفر اس کو در پیش، مگر بار علائق کی وجہ سے پہلے ہی قدم پر اس کے پاؤں ہزار ہزار من کے ہو رہے تھے۔ ریل کی سیٹی بج چکی تھی، مگر یہ ابھی اسٹیشن کے باہر اسباب سنبھالنے میں مصروف تھا۔ اگر اسی حالت میں، کہ اس کی روح تعلقات دینوی میں ڈانوا ڈول بھٹکتی ہوئی پھر رہی تھی، کہیں خدانخواستہ اس کی جان نکل جاتی تو بس دونوں جہان سے گیا گزرا تھا۔ ازیں سُو راندہ و ازیں سُو درماندہ۔ مگر خدا نے بڑا ہی فضل کیا کہ نا امیدی نے اس کی ہمت بندھائی اور اپنے دل میں سوچا کہ چلنا تو اب ٹلتا نہیں، پھر قلق سے فائدہ اور اضطراب سے حاصل۔ مرتا ہوں تو مردانہ وار کیوں نہ مروں اور استقلال کے ساتھ جان کیوں نہ دوں۔ اس بات کا ذہن میں آنا تھا کہ دنیا کی تمام چیزوں پر ایک اداسی چھا گئی۔ اب جس چیز کو دیکھتا ہے میچ اور بے وقعت نظر آتی ہے۔ یہ وہ وقت تھا کہ ڈاکٹر نے اس کو دوا پلوا کر تنہا لٹوا دیا تھا۔ استغنا سے ایک اطمینان دل کو پہنچا اور ادھر علالت کے اشتداد کا تکان تھا ہی، اوپر سے پہنچی دوا جو بالخاصہ خواب آور تھی اور تیمار داروں کا ہجوم کم ہوا، لیٹا تو نیند کی ایک جھپکی سی آ گئی۔

آنکھ کا بند ہونا تھا کہ نصوح ایک دوسری دنیا میں تھا۔ جو خیالات تھوڑی دیر ہوئی اس کے پیشِ نظر تھے، سب اس کے دماغ میں بھرے ہوئے تھے۔ اب متخیلہ نے ان کو اگلے پچھلے تصورات سے گڈ مڈ کر کے ایک نئے پیرائے میں لا سامنے کھڑا کیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ ایک بڑی عمدہ اور عالیشان عمارت ہے اور چونکہ نصوح خود بھی کبھی ڈپٹی مجسٹریٹ حاکم فوجداری رہ چکا تھا، تو اس کو یہ تصور بندھا کہ یہ گویا ہائی کورٹ کی کچہری ہے۔ لیکن حاکم کچہری کچھ اس طرح کا رعب دار ہے کہ باوجود یہ کہ ہزاروں لاکھوں آدمیوں کا اجتماع ہے مگر یہ شخص سکوت کے عالم میں ایسا دم بخود بیٹھا ہے کہ گویا کسی کے منہ میں زبان نہیں اور جو کوئی بہ ضرورت بولتا اور بات بھی کرتا تھا تو اس قدر آہستہ کہ کانوں کان خبر نہ ہو۔ اتنی بڑی تو کچہری ہے مگر مختار اور وکیل کسی طرف دیکھنے میں نہیں آتے۔ کچہری کے عملے اس طرح کے کھرے اور اپنے حاکم سے اتنا ڈرتے ہیں کہ کسی اہل معاملہ اور مقدمے والے کے اپنے پاس تک آنے کے روادار نہیں۔ غرض کیا مجال کہ کوئی اپنے بارے میں ناجائز پیروی کر سکے یا روپے پیسے کا لالچ دیکھا کر یا سعی سفارش بہم پہنچا کر کار بر آری کر سکے۔ اگرچہ انصاف اور معاملہ فہمی اور ہمہ دانی کی وجہ سے حاکم کی ہیبت ادنٰی اعلیٰ سب پر چھائی ہوئی ہے، مگر جتنے مجرم ہیں، کیا خفیف کیا سنگین، کوئی اس کے رحم سے نا امید نہیں۔ اختیارات اس کے اس قدر وسیع ہیں کہ نہ اس کے فیصلے کی اپیل ہے، نہ اس کے حکم کا مرافعہ۔ کام کرنے کا ایسا اچھا ڈھنگ ہے کہ کام زور کا زور صاف۔ کتنے ہی مقدمے پیشی میں کیوں نہ ہوں، ممکن نہیں ‌کہ تاریخ مقررہ پر فیصل نہ ہو جائیں۔ پھر یہ نہیں کسی قدمے کو روا روی اور سرسری طور پر تجویز کر کے ٹال دیا جائے۔ نہیں۔ جو حکم صادر کیا جاتا ہے، ہر عذر کو رفع، ہر جہت کو قطع، خود مجرم کو قائل معقول کر کے اور گناہگار کے منہ سے اس کی خطا تسلیم کرانے کے بعد۔ غرض جو تجویز ہے مؤجہ، جو فیصلہ ہے مدلل، جو رائے ہے حتمی و ادغانی، جو حکم ہے دودھ کا دودھ، پانی کا پانی۔ گواہوں کے باب میں ایسی احتیاط ملحوظ ہے کہ صرف عادل، ثقہ اور راست گو کی گواہی ہی لی جاتی ہے اور وہ بھی ایسے کہ واقف الحال چشم دید، بلکہ ملزم کے رفیق و ہمنشین، کہ اس کے راز دار و معین اور مدد گار ہوں۔ پھر کیا دیکھتا ہے کہ ہر مجرم کو فرداً فرداً فردِ قراردادِ جرم کی ایک نقل دی گئی ہے کہ وہ اس کو پڑھ رہا ہے، اور جتنے الزام اس پر لگائے گئے ہیں سب کو سمجھتا ہے اور اپنی برات کی وجوہات کو سوچتا ہے۔

کچہری کا خیال نصوح کو حوالات کی طرف لے گیا، تو دیکھا ہر شخص ایک علیحدہ جگہ میں نظر بند ہے۔ جیسا مجرم ہے اس کے مناسب حالت اس کو حوالات میں سختی یا سہولت کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ حوالات کے برابر جیل خانہ ہے، مگر بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔ محنت کڑی، مشقت سخت، جو اس میں گرفتار ہیں، سولی کے متمنی اور پھانسی کے خواستگار ہیں۔ نصوح یہ مقامِ ہولناک دیکھتے ہی الٹے پاؤں پھرا۔ باہر آیا تو پھر حوالاتیوں اور زیر تجویزوں میں تھا۔ ان لوگوں میں ہزار ہا آدمی تو اجنبی تھے لیکن جا بجا شہر اور محلے کے آدمی بھی نظر آتے تھے، مگر وہ جو مر چکے تھے۔ نصوح کو یہی سب سامان دیکھ کر اسی خواب کی حالت میں ایک حیرت تھی کہ الٰہی یہ کون سا شہر ہے؟ کس کی کچہری ہے؟ یہ اتنے مجرم کہاں سے پکڑے ہوئے آئے ہیں؟ اور یہ میرے ہم وطنوں نے کیا جرم کیا کہ ماخوذ ہیں؟ اور یہ کیسے مرے تھے کہ میں ان کو یہاں جواب دہی میں دیکھتا ہوں؟ اسی حیرت میں لوگوں کو دیکھتا بھالتا چلا جاتا تھا کہ دور سے اسکو اپنے والد بزرگوار انہی حوالاتیوں میں بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ پہلے تو سمجھا کہ نظر غلطی کرتی ہے۔ مگر غور کیا تو پہچانا کہ نہیں، واقع میں وہی ہیں۔ دوڑ کر قدموں پر گر پڑا اور کہنے لگا کہ حضرت ہم آپ کی مفارقت میں تباہ ہیں۔ آپ یہاں کہاں؟

باپ: “میں اپنے گناہوں کی جواب دہی میں ماخوذ ہوں۔ یہ مقام جو تم دیکھتے ہو دارالجزا ہے۔ خداوند جلّ و علیٰ شانہ اس محکمے کا حاکم ہے۔ “

بیٹا: “ یا حضرت آپ بڑے متقی، پرہیزگار، خدا پرست، نیکوکار تھے۔ آپ پر، اور گناہوں کا الزام؟“

باپ: “گناہ بھی ایک دو نہیں، سینکڑوں ہزاروں۔ دیکھو میرا نامہ اعمال کیسی رسوائی اور فضیحت سے بھرا ہوا ہے اور میں ‌اس کو دیکھ دیکھ کر سخت پریشان ہوں کہ کیا جواب دوں گا اور کون سی اپنی برات کی پیش کروں گا۔ “

یہ وہ کاغذ تھا جو نصوح نے ہر شخص کے ہاتھ میں دیکھا تھا اور اس کو دنیا کے خیالات کے مطابق فردِ قراردادِ جرم سمجھا تھا۔ باپ کا نامہ اعمال دیکھ کر تو تھرّا اُٹھا۔ شرک اور کفر اور نافرمانی، نا شکری اور بغاوت اور بے ایمانی، کبر و نخوت، دروغ و غیبت، طمع و حسد، مردم آزادی، نفاق دریا، حسبِ دنیا، کوئی الزام نہ تھا کہ اس میں نہ ہو۔ چوں کہ نصوح کے دماغ میں خیالاتِ دینوی گونج رہے تھے، لگا باپ کے نامہ اعمال میں تعزیرات ہند کے، قرآن کی صور توں اور آیتوں کا حوالہ تھا۔ متعجب ہو کر باپ سے پوچھا کہ حضرت پھر کیا آپ ان تمام جرموں کے مرتکب ہوئے ہیں؟

باپ: “سب کا۔ “

بیٹا: “کیا آپ حضور حاکم اقرار کر چکے ہیں؟“

باپ: “ انکار کی گنجائش ہی نہیں۔ میری مخالفت میں گواہی اتنی وافر ہے کہ اگر میں انکار بھی کروں تو پذیرا نہیں ہو سکتا۔ “

بیٹا:‌ اول تو دو شخص کرام کاتبین اس بلا کے ہیں کہ میرا کوئی فعل ان سے مخفی نہیں۔ باتیں کہتے ہیں پتے کی اور کہتے کیا ہیں، میرا روزنامچہ عمری لکھتے گئے ہیں۔ اب جو میں اس کو دیکھتا ہوں، حرف بہ حرف صحیح اور درست پاتا ہوں۔ دوسرے، میرے اعضا: ہاتھ پاؤں، آنکھ، کان، کوئی میرے کہنے کا نہیں۔ سب کے سب مجھ سے منحرف، سب کے سب مجھ سے برگشتہ، میری مخالفت پر آمادہ، میری تذلیل پر کمر بستہ ہو رہے ہیں۔ “

بیٹا:‌ آخر آپ کچھ اس کی وجہ بھی سمجھتے ہیں؟

باپ: میں ان کو غلطی سے اعوان و انصار، بھیدی اور رازدار سمجھتا تھا، مگر واقع میں ‌یہ سب جاسوسِ ایزدی تھے۔ انہوں نے وہ وہ سلوک میرے ساتھ کیے کہ تسمہ لگا نہیں رکھا۔

بیٹا: پھر آپ کا کیا حال ہے۔

باپ: جب سے دنیا کو چھوڑا، قبر کی حوالات میں ہوں۔ تنہائی سے جی گھبراتا ہے۔ انجام کار معلوم نہیں۔ شبانہ روز اسی اندیشے میں پڑا گھلتا ہوں۔ حوالات میں مجھ کو اس قدر ایذا ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔ مگر صبح و شام، ہر روز آتے جاتے جیل خانے کے پاس ہو کر گزرنا ہوتا ہے۔ دوزخ وہی ہے۔ وہاں کی تکلیفات دیکھ کر اور بھی ہوش اُڑ جاتے ہیں اور غنیمت معلوم ہوتا ہے کہ اے کاش ہمیشہ کے واسطے اسی حوالات میں رہنے کا حکم ہو جاتا۔

بیٹا: پھر ہنوز آپ کا مقدمہ پیش نہیں ہوا۔

باپ: خدا نہ کرے کہ پیش ہو۔ جو دن حوالات میں ‌گزر جاتا بہت غنیمت ہے۔ اول اول جب میں ‌حوالات آیا تو اعمال نامہ مجھ کو حوالے کر دیا گیا۔ بس اسی کو دیکھا کرتا ہوں اور انجامِ کار سے ڈرا کرتا ہوں۔ نجات کی کوئی تدبیر نظر نہیں آتی۔

بیٹا:‌ بھلا کسی طرح ہم لوگ آپ کی اس مصیبت میں ‌کام آ سکتے ہیں؟

باپ: اگر میرے لئے عاجزی اور خلوص کے ساتھ دعا کرو تو کیا عجب کہ مفید ہو۔ ابھی میرے ہمسائے میں ایک شخص کی رہائی ہوئی ہے۔ اس پر بھی بہت سے الزام تھے۔ مگر جہاں ‌اللہ تعالیٰ میں کامل انصاف ہے، رحم بھی پر لے ہی سرے کا ہے۔

اس شخص کے پس ماندوں نے اس کے واسطے بہت زار نالی کی، تو پرسوں یا اترسوں اس کو بلا کر ارشاد فرمایا کہ تیرے افعال جیسے تھے، وہ اب تجھ پر مخفی نہیں رہے۔ مگر ہمارے کئی بندے تیری معافی کے واسطے ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں اور وہ تیرے ہی زن و فرزند ہیں۔ ہم کو تیری یہی ایک بات بھلی معلوم ہوتی ہے کہ تو نے اپنی خاندان میں نیکی اور دین داری کا بیج بویا۔ جا، ہم نے تیری خطا معاف کی۔ بیٹا! سچ کہنا کہ تم لوگوں نے بھی کبھی میرے حق میں دعائے خیر کی ہے؟

بیٹا : جناب آپ کے انتقال کے بعد رونا پیٹنا تو بہت کچھ ہوا اور اب تک اس شد و مد کے ساتھ ہوتا ہے کہ گویا آپ نے ابھی انتقال فرمایا ہے۔ اور یہ رونا تو ہم لوگوں کے دم کے ساتھ ہے۔ آپ کی عنایتیں، آپ کی شفقتیں، جب تک جئیں گے یاد کریں گے۔ رسم دنیا کے مطابق آپ کا کھانا بھی برادری میں تقسیم کر دیا ہے۔ لوگ شاید میرے منہ پر خوشامد سے کہتے ہوں، مگر کہتے تھے کہ اس مہنگے سمے میں باپ کا کھانا اچھا کیا۔ دعا کے بارے میں، غلط بات کیوں کر عرض کروں، اہتمام نہیں ہوا۔ آپ کے میراث کے ایسے جھگڑے پڑ گئے کہ آج تک نہیں سلجھے۔ مگر یہ تو فرمائیے کہ آپ تو صوم و صلوۃ کے بڑے پابند تھے۔کیا اعمال و افعال کچھ بھی کام نہ آئے؟

باپ : کیوں نہیں۔ یہ انہی اعمال کی بدولت ہے کہ تم مجھ کو اس حالت میں دیکھتے ہو، ورنہ بہتیرے مجھ سے زیادہ تکلیف میں ہیں۔ حوالات میں جیل خانے کی سی ایذا ہے۔ مگر یہاں ہمارے اعمال میں خلوص نیت شرط ہے۔ میں نے اعمال کو آ کر دیکھا تو اکثر جیسے جھوٹے موتی، کھوٹے روپے، نمازیں بے حضور قلب اکارت گئیں اور روزے چونکہ پابندی رسم کے طور پر رکھنے کا اتفاق ہوتا تھا، خالی فاقے شمار میں آئے۔

بیٹا : پھر اس دربار میں کچھ سعی و سفارش کا دخل نہیں؟

باپ : استغفر اللہ! کوئی کسی کی بات تو پوچھتا ہی نہیں۔ نفسی نفسی پڑی ہے۔ ہر شخص اپنی بلا میں مبتلا اور اپنی مصیبت میں گرفتار ہے۔ دوسرے کی نجات تو کیا کرائے گا، پہلے آپ تو سرخرو ہو لے۔

بیٹا : کیوں جناب، معاذ اللہ یہ شرک و کفر کا الزام آپ پر کیسا ہے؟ ہم لوت تو خیر، سارا شہر آپ کے اتقا کا معتقد تھا۔ کیا آپ خدا کے قائل نہ تھے؟

باپ : قائل تو تھا مگر دل سے معتقد نہ تھا۔

بیٹا : جناب، آپ کے تمام اعمال ظاہر سے مسسط ہوتا تھا کہ آپ کو خدائے کریم کے ساتھ بڑی راسخ عقیدت ہے۔

باپ : وہ تمام عقیدت معلوم ہوا کہ اوپری دل سے تھی۔ جب اول اول میرا اظہار لیا گیا تو پہلا سوال مجھ سے یہی پوچھا گیا کہ تیرا رب کون ہے؟ چونکہ مرتے وقت مجھ کو ایمان کی تلقین کی گئی تھی، میں نے جواب دیا اللہ وحدہ لا شریک لہ، تب اس پر جرح کی گئی کہ بھلا جب تو دکھن کی نوکری سے برخاست ہو کر گھر آیا اور مدت تک خانہ نشین رہا اور جو کچھ تو نوکری پر سے کما کر لایا، سب صرف ہو گیا اور تو نان شبینہ کو محتاج ہو کر نوکری کی جستجو میں ادھر ادھر پھرتا تھا اور مضطر ہو ہو کر ہم سے کرنے کو کافی تھی۔ ہم حفاظت نہ کرتے تو خود تیرے جسم میں فساد کا مادہ ایسا تھا کہ ایک ذرا سا روگ تیرے فنا کر دینے کو بہت تھا۔ مگر ہم تجھ سے دوستی کرتے تھے اور تو ہم سے عداوت۔ ہم عنایت کرتے تھے اور تو بغاوت۔ کیا یہی تھا بدلہ جو تو نے ہمکو دیا؟ کیا یہی تھا صلہ جو تجھ سے ہم کو ملا؟

ہم نے تجھ کو دنیا میں بھیجتے وقت کیا تاکید کی تھی کہ دیکھ، روح ایک جوہر لطیف ہے اور مجھ کو بہت ہی عزیز ہے، ایسا نہ کرنا کہ اس کو دنیا میں جا کر بگاڑ لائے۔ یہ میری عمدہ امانت اور نفیس ودیعت ہے۔ دیکھ اس کی احتیاط کما ینبغی اور حفاظت کماحقہ کیجیو۔ جیسا اجلا، شفاف، براق، روشن، یہاں سے لیے جاتا ہے ایسا ہی دیکھ لوں گا۔ آج تو اے روسیاہ، اس کو لایا ہے پوتھ سے بدتر اور ٹھیکری سے کم تر بنا کر، نجس، نا پاک، تیرہ، بے آب، بد رونق، خراب۔ ہم نے تو چلتے چلتے تجھ سے کہہ دیا تھا کہ تو دنیا میں دل مت لگائیو اور اس طرح رہیو جیسے سرائے میں مسافر۔ تو وہاں گیا تو بس وہیں کا ہو رہا اور ایسی لمبی تان کر سویا کہ قبر میں آ کر جاگا۔ تھا تو مسافر اور بن بیٹھا مقیم۔ تھا تو سیاح اور ہو گیا متوطن۔ کیا تو تمام عمر دنیا میں مال نہیں جمع کرتا رہا اور کیا تو نے پکی پکی عمارتیں اس خیال سے نہیں بنوائیں کہ مدتوں ان میں رہے گا؟ مسافر کا یہی کام ہے؟ سیاح کا یہی شیوہ ہے؟ تو تو جانتا تھا کہ تجھ کو یہاں لوٹ کر آنا ہے، پھر مرنے کے نام سے تجھ کو موت کیوں آتی تھی اور چلنے کی خبر سنکر تو مچلتا کیوں تھا؟

اول تو تجھ کو ہماری عبادت کا اتفاق ہی نہیں ہوا۔لیکن جب کبھی تو لوگوں کی شرم حضور یا دکھاوے یا اتباع رسم کی وجہ سے مصروف عبادت ہوا بھی ہو، تو کس طرح، کہ دل کہیں تھا اور تو کہیں۔ کوئی نماز بھی تیری سجدہ سہو سے خالی تھی؟ دنیا کی بھولی بسری باتیں تجھ کو نماز میں یاد آتی تھیں، اور نماز تو کیا پڑھتا تھا، گھاس کاٹتا تھا۔ نہ تعدیل ارکان ٹھیک، نہ قومہ درست، نہ قعدہ صحیح۔ برس بھر تو دوزخ شکم کو اناپ شناپ بھرتا رہتا تھا۔ برسویں دن صرف ایک مہینے کے روزے رکھنے کا ہم نے تجھ کو حکم دیا تھا۔ کہ تجھ کو ہماری نعمتوں کی قدر ہو، تجھ کو اپنے ابنائے جنس پر، جو مبتلائے مصیبت ہیں، رحم آئے اور تیری صحت بدنی کو بھی نفع پہنچے۔ تیرے مزاج میں فروتنی اور انکسار کی صفتِ محمود، کہ یہ ادا ہم کو بہت بھاتی ہے، پیدا ہو۔ لیکن یوں دنیا کے کام دھندے میں تو تو دن بھر بے آب و دانہ مصروف رہا، نہ شکوہ، نہ گلہ، تازہ دم، ہشاش بشاش، پھر کھانا تھوڑے کو موجود۔ مگر روزہ چوں کہ ہمارے حکم سے تھا، دن میں سینکڑوں مرتبہ پیاس کی شکایت اور جو آیا اس سے ضعف و نا توانی کی حکایت۔ ” العطش ” اور ” الجوع ” یہی تیرے دو وظیفے تھے۔ روزہ افطار کیا اور تو بدحواس ہو کر چار پائی پر ایسا گرا کہ گویا جان نہیں۔ باوجودیکہ تو دو دن کا کھانا ایک ہی رات میں کھا لیتا تھا، پھر بھی اس تصور سےکہ کل پھر روزہ رکھنا ہے، تیری جوع البقر کو کسی چیز سے سیری نہیں ہوتی تھی۔ تُو عید کا اس طرح منتظر رہتا تھا جیسے کوئی قیدی تاریخ رہائی کا۔ تیرا بس چلتا تو 29 کیا 19 کی عید کرتا۔ کیا ایسے ہی روزوں کے ثواب کا تو امیدوار اور اجر کا متوقع ہے؟

ہم نے تجھ کو انسان بنا کر بھیجا تھا تاکہ مصیبت زدوں کی ہمدردی کرے۔مگر تو نے ایسی تن آسانی اختیار کی کہ راحت پہنچانا تو در کنار دوسروں کو تکلیف دے کر بھی اپنی آسائش حاصل کرنے میں تجھ کو بات نہ تھا۔ تیرے ہمسائے میں ہمارے بندے رات کو فاقے سے سوتے تھے اور تجھ کو سوء ہضم کے علاج سے ان کی پرداخت کی پروا نہ تھی۔ تیرے پڑوس میں ایسے لوگ بھی تھے کہ جاڑے کی لمبی راتیں آگ تاپ تاپ کر سحر کرتے اور تُو دَھرے دَھرے لحاف اور بھاری بھاری توشکوں میں چین سے پاؤں پھیلا کر سوتا۔ نعمت مال و دولت جو ہم نے تجھ کو عطا کی تھی، تو نے تکلفات لا یعنی اور نمود و نمائش کی غیر ضروری چیزوں میں بہت کچھ تلف کی اور جو لوگ اس کے سخت حاجت مند تھے، ترستے کے ترستے رہ گئے۔ تیری سب خباثتیں ہم کو معلوم ہیں۔ تو نے درماندگی کا نام خدا رکھ چھوڑا تھا۔ جب تک سعی و تدبیر سے تجھ کو کار برآری کی امید ہوتی تھی، تجھ کو ہر گز پروا نہیں ہوتی تھی کہ خدا بھی کوئی چیز ہے اور انتظام دنیا میں اس کو بھی کچھ دخل ہے۔ مگر جب تو عاجز اور درماندہ ہوتا تھا، تب تو خدا کو یاد کرتا تھا۔ اگر ہماری خدائی اور سلطنت تیری فرماں برداری کی محتاج ہوتی، تو تو نے اس کے اٹھا دینے میں کچھ کوتاہی نہیں کی۔ تو نے ہمارے فرمان واجب الاذعان کی بے حرمتی اور احکام لازم الاحترام میں بے توقیری کی اور تو نے اپنا برا نمونہ دکھا کر میرے دوسرے بندوں یعنی اپنے فرزندوں کو بھی گمراہ کیا۔ ہر روز تو لوگوں کو مرتے دیکھتا اور سنتا تھا، کیا تجھ کو نہیں سمجھنا چاہیے تھا کہ ایک دن تو بھی مرے گا۔ خود تیری حالت میں کتنے کتنے انقلاب واقع ہوئے۔ لڑکے سے جوان ہوا، جوان سے بڈھا ناتواں۔ بال تیرے سفید ہوئے، دانت تیرے ٹوٹے، کمر تیری جھکی، قوتوں میں تیری فتور آیا۔ غرض ہم نے تجھ کو سوتا دیکھ کر بہتیرا جھنجھوڑا، بہتیرے پانی کے چھینتے دیے، کئی بار اٹھا اٹھا کر بٹھا بٹھا دیا، مگر تیرے نصیب کچھ ایسے سوتے تھے کہ تو نے ہی کروٹ نہ لی۔

تمامی عمر تُو غفلت میں سویا

ہمارا کیا گیا اپنا ہی کھویا

سخت گیری خود ہماری عادت نہیں اور سخت گیری ہم کریں بھی تو کس پر؟ اپنے بندوں، جن کا مارنا اور جلانا ہر وقت ہمارے اختیار میں ہے۔ مگر جب بندہ بندہ ہو اور ہم کو اپنا مِلک سمجھے، نہ خرنا شخص کو ہم تو دیں نون اور وہ کہیے کہ میری آنکھیں پھوٹیں۔ ہم سے زیادہ بھی کوئی درگزر کرنے والا ہو گا کہ ایک معذرت پر عمر بھر کے گناہوں کو ہم نے قلبتہً بھلا بھلا دیا ہے۔ لیکن توبہ استغفار، ندامت و حسرت کا اظہار بھی تو کوئی کرے۔ ہماری رحمت حیلہ جُو، ہماری رافت بہانہ طلب، کتنی کتنی بار جوش میں آئی۔ مگر ہم نے اس کو صرف کرنے کا موقع نہ پایا۔ اگر بندہ ہمارے ساتھ نسبت عبودیت صحیح رکھتا تو ہم اس کی لاکھ برائیوں پر خاک ڈالتے۔ ہم کو تو بڑی شکایت یہی ہے کہ اس نے ہم کو معبود ہی نہ گردانا۔ عالم اسباب میں رہ کر اسباب پرست ہو گیا۔

پھر ہم جو دیکھتے ہیں تو ہمارے تو ہمارے احکام بھی کچھ سخت نہ تھے۔ کھانے کو ہم نے نہیں روکا، سونے کو ہم نے منع نہیں کیا، متمتعات دنیوی سے باز نہیں رکھا۔ پھر جو تو نے ان کی بجا آوری نہ کی، تو سوائے تیری بدنفسی کے اور تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ اے شخص، نجات جس کا تو نہایت آرزو مندی کے ساتھ خواہاں ہے، اے کاش زندگی میں تجھ کو اسکی اتنی بھی پرواہ ہوتی جیسے ارد پر سفیدی، دنیا کے چھوٹے چھوٹے نقصان اور ذرا ذرا سے زیان تجھ کو مضطر اور بے چین کر دیا کرتے تھے، اگرچہ کیا دنیا اور کیا دنیا کا خسارہ، کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا، لیکن تباہیِ دین کی تجھ کو خبر تک بھی تو نہیں ہوئی۔ اے کاش تجھ کو نماز کے قضا ہونے کا اتنا ہی رنج ہوتا جتنا ایک مٹی کے پرانے آب خورے کے ٹوٹ جانے کا ہوتا تھا۔ ہم جاتے ہیں کہ اب تجھ کو بہت ہی ندامت ہے لیکن اس ندامت کا ماحصل نہیں، اس واسطے کہ یہ دار الجزا ہے، دار العمل نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تو ایک بات کا جواب نہیں دے سکتا لیکن حجت تمام کرنے کی نظر سے ہم تجھ کو مہلت دیتے ہیں، جا، اپنے نامۂ اعمال کو دیکھ اور اچھی طرح سوچ سمجھ کر کوئی بات ہم سے بیان کر، بشرطیکہ معقول اور قابلِ قبول ہو۔

ڈپٹی نذیر احمد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد کا تیسرا ناول