اردو غزلیاتحمیدہ شاہینشعر و شاعری

اک جادوگر ہے آنکھوں کی بستی میں

ایک اردو غزل از حمیدہ شاہین

اک جادوگر ہے آنکھوں کی بستی میں

تارے ٹانک رہا ہے میری چنری میں

میرے سخی نے خالی ہاتھ نہ لوٹایا

ڈھیروں دکھ باندھے ہیں میری گٹھڑی میں

کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو

سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں

جن کی خوشبو چھید رہی ہے آنچل کو

کیسے پھول وہ ڈال گیا ہے جھولی میں

جس نے مہر و ماہ کے کھاتے لکھنے ہوں

میں اک ذرہ کب تک اس کی گنتی میں

عشق حساب چکانا چاہا تھا ہم نے

ساری عمر سما گئی ایک کٹوتی میں

حرف زیست کو موت کی دیمک چاٹ بھی لے

کب سے ہوں محصور بدن کی گھاٹی میں

حمیدہ شاہین

حمیدہ شاہین

حمیدہ شاہین ایک معروف پاکستانی شاعرہ ہیں . جن کا تعلق سرگودھا سے ہے اور سکونت لاہور میں ہے .حمیدہ شاہین ابتدا سے ہی اپنی ذہانت اور لگن کا ثبوت دیتی رہی ہیں اور ایم اے ، بی ایڈ، مڈل و میٹرک میں ٹیلنٹ سکالر شپ ہم نصابی سرگرمیوں میں سو سے زیادہ انعامات ، ۴ گولڈ میڈل ، ایک سلور میڈل اور متعدد ٹرافیاں حاصل کیا . زمانہ طالب علمی میں سیکرٹری بزمِ ادب گورنمنٹ کالج سرگودھا صدر بزمِ ادب گورنمنٹ کالج سرگودھا اور سیکرٹری مجلسِ خواتین پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طور پہ کام کیا.ان کی تصنیفات میں غزل اور نظم کے متعدد شعری مجموعے "دستک" ’’ زندہ ہوں‘‘ "دشت وجود "اورایک ناول "میری آپی" بھی شامل ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button