- Advertisement -

یک عمر دیدہ ہاے ستم دیدہ تر رہے

میر تقی میر کی ایک غزل

یک عمر دیدہ ہاے ستم دیدہ تر رہے
آخر کو پھوٹ پھوٹ بہے قہر کر رہے

ہم نے بھی نذر کی ہے پھریں گے چمن کے گرد
آنے تئیں بہار کے گر بال و پر رہے

کیا کہیے تیرے واسطے اے مایۂ حیات
کیا کیا عزیز اپنے تئیں مار مر رہے

مرتے بھی اپنے ہائے وہ حاضر نہ ہوسکا
ہم اشتیاق کش تو بہت محتضر رہے

مرغان باغ رہتے ہیں اب گھیرے یوں مجھے
ماتم زدوں کے حلقے میں جوں نوحہ گر رہے

آغوش اس سے خالی رہی شب تو تا سحر
جیب و کنار گریۂ خونیں سے بھر رہے

نقش قدم کے طور ترے ہم ہیں پائمال
غالب ہے یہ کہ دیر ہمارا اثر رہے

اب صبر و ہوش و عقل کی میرے یہ ہے معاش
جوں قافلہ لٹا کہیں آکر اتر رہے

لاکھوں ہمارے دیکھتے گھر بار سے گئے
کس خانماں خراب کے وے جا کے گھر رہے

آتا کبھو تو ناز سے دکھلائی دے بھی جا
دروازے ہی کی اور کہاں تک نظر رہے

رکھنا تمھارے پائوں کا کھوتا ہے سر سے ہوش
یہ چال ہے تو اپنی کسے پھر خبر رہے

کیا بدبلا ہے لاگ بھی دل کی کہ میر جی
دامن سوار لڑکوں کے ہو کر نفر رہے

میر تقی میر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل