- Advertisement -

بدن کو تیرگی میں بو رہا ہوں

عمران سیفی کی اردو غزل

بدن کو تیرگی میں بو رہا ہوں
یقیناً خواب ہے میں سو رہا ہوں

محبت پیش ہونے جا رہی ہے
میں اپنی ہر گواہی کھو رہا ہوں

تجھے کیا علم آنکھیں چیز کیا ہیں
سہولت ہے تبھی تو رو رہا ہوں

یہ صحرا آنکھ ًملنے سے دِکھا ہے
نہ یہ سمجھو کہ منظر دھو رہا ہوں

مرے آنسو سمندر میں گریں گے
میں دریا کے کنارے رو رہا ہوں

عمران سیفی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
عمران سیفی کی اردو غزل