آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمحمد حذیفہ جلال

ہمنوا، محرمِ جاں

محمد حذیفہ جلال کی ایک اردو غزل

ہمنوا، محرمِ جاں، اے مرے دل کوئی نہیں
چھوڑ قربت کے گماں اے مرے دل کوئی نہیں

اب مجھے دشتِ جدائی میں یہ معلوم ہوا
سائباں، سایہ ، اماں ، اے مرے دل کوئی نہیں

اس طرح رات کو کاٹا ہے تسلی سے پھر
آرہے ہیں وہ یہاں، اے مرے دل کوئی نہیں

کون آئے گا ملاقات کو مجھ سے اس وقت
یہ ہیں بس تیرے گماں اے مرے دل کوئی نہیں

اک اداسی ہے ستاتی مجھے ہر شب میں جلال
وہ نہ ہو تو یہ جہاں! اے مرے دل کوئی نہیں

محمد حذیفہ جلال

post bar salamurdu

محمد حذیفہ جلال

قلمی نام محمد حذیفہ جلال الدین رضوان انصاری- تخلص جلال- جائے پیدائش بہاولنگر ، 13 اکتوبر 2009- جائے سکونت اٹک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button