اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر حسن

نے ہوں چمن کا مائل

میر حسن کی اردو غزل

نے ہوں چمن کا مائل نے گل کے رنگ و رُو کا
رنگِ وفا ہو جس میں بندہ ہوں اُس کی بو کا

وہ ملکِ دل کہ اپنا آباد تھا کبھو کا
سو ہو گیا ہے تجھ بن اب وہ مقام ہُو کا

مت سہم دل مبادا یہ خون سوکھ جاوے
آتا ہے تیر اس کا پیاسا ترے لہو کا

غنچہ ہوں میں نہ گل کا نے گل ہوں میں چمن کا
حسرت کا زخم ہوں میں اور داغ آرزو کا

لایا غرور پر یہ عجز و نیاز تجھ کو
تیرا گنہ نہیں کچھ اوّل سے میں ہی چُوکا

دامان و جیب ہی کچھ ٹکڑے نہیں ہیں ناصح
ہے چاک میرے ہاتھوں سینہ تو اب رفو کا

خاموش ہی رہا وہ ہر گز حسنؔ نہ بولا
جس کو مزا پڑا کچھ اُس لب کی گفتگو کا

 

میر حسن 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button