ہماری چال الٹی پڑ گئی استاد
دوا ہاتھوں بنائی لڑ گئی استاد
کوئی سر سبز آیت مجھ پہ دم کر دے
مرے رخ سے وہ صورت جھڑ گئی استاد
خدا کے خوف سے مرجھا گئے چہرے
ہماری فصل اگتے سڑ گئی استاد
کسی آواز سے نکلی ہوئی کرچی
مرے اندروں کہیں پر گڑ گئی استاد
کسی بے سمت جانب بھاگتی حیرت
مرا بت طاقچے میں جڑ گئی استاد
ہمارا خواب آنکھیں لے گیا راشدؔ
ہمیں دنیا دکھائی پڑ گئی استاد
راشد امام







