- Advertisement -

بے نشاں ہو گئے عاشقی میں تری

سحر افشیؔ کی ایک اردو غزل

بے نشاں ہو گئے عاشقی میں تری
نام ہے اب مرا شاعری میں تری

انجمن سے تری اٹھ چلے دوستا
عارضی تھے ناں ہم زندگی میں تری

گفتگو کب رہی ، رابطے کب رہے
کب رہے قہقہے اب ہنسی میں تری

چھوڑ کر آ گئے راہ میں ہم تجھے
فکر لیکن رہی واپسی میں تری

مشکلوں کی گھڑی جب پڑی تو کھلا
فائدہ تھا نہیں دوستی میں تری

سوچتی ہوں کبھی چھوڑ دوں یہ گلی
آ نہ جاؤں کہیں سادگی میں تری

نہ مجھے دی خبر قافلہ جا چکا
کیوں کھلی آنکھ نہ روشنی میں تری؟

آ گئیں راس ہم کو سبھی الجھنیں
تہمتیں سہہ گئے بے کسی میں تری

باخدا ہم ہوئے بد مزہ بے شمار
دل جلا ہی نہیں دشمنی میں تری

زندگی بچ گئی جو مری اے خدا!!
آرزو ہے کٹے بندگی میں تری

سحر افشیؔ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
حیات عبداللہ کا ایک اردو کالم