- Advertisement -

پہاڑی ایسے سڑک سے لپٹ چکی ہو گی

فیضان ہاشمی کی ایک اردو غزل

پہاڑی ایسے سڑک سے لپٹ چکی ہو گی
کہ ہم زمیں سے مری تک پہنچ گئے ہوں گے

ہمارے خواب میں دریا کے ساتھ باغ بھی ہے
یہ پھول ہیں تو ابھی تک پہنچ گئے ہوں گے

تو جتنی دیر میں یہ داستاں سمیٹے گا
جو سن رہے تھے پری تک پہنچ گئے ہوں گے

ہماری آنکھ اگرچہ کہیں نہیں پہنچی
ہمارے خواب کسی تک پہنچ گئے ہوں گے

ہماری لاش کنارے پہ آئے گی جب تک
ہم ایک بارہ دری تک پہنچ گئے ہوں گے

ٖفیضان ہاشمی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
فیضان ہاشمی کی ایک اردو غزل