آپ کا سلاماردو تحاریرمقالات و مضامین

عمران راقم کی ہمہ جہت شخصیت

از رہبر گیاوی

صوبہ بہار میں نالندہ ضلع کو بڑی فوقیت حاصل ہے اس کے کئی اہم وجوہات ہیں اس ضلع کی عظمت کی سب سے پہلی وجہ نالندہ یونیورسٹی رہی ہے نالندہ یونیورسٹی تمام عظیم درس گاہوں میں سب سے عظیم درس گاہ مانی گئی ہے جس کا قیام 450 ء میں ہوا ۔ جس میں تاریخ اور ماحولیات کی تعلیم دی جاتی تھی نویں صدی عیسوی تک نالندہ یونیورسٹی دنیا کی سب سے مقبول عام یونیورسٹی رہی تاریخ یہ بھی ہے کہ نالندہ یونیورسٹی کے علاوہ تکشلا اور وکرم شیلا یونیورسٹی بھی اس وقت وجود میں آچکی تھی لیکن نالندہ یونیورسٹی میں دور دراز سے آنے والے طلبا کی تعداد بہ نسبت دیگر یونیورسٹی سے کہیں زیادہ رہی ۔عصری تعلیم کی حصولیابی کےلئے دیڑھ ہزار سال قبل ہی نالندہ یونیورسیٹی نے پورے ایشیا میں خاصہ مقبولیت حاصل کر لی تھی ۔

چین، جاپان، انگلینڈ , امریکہ، روس کےطلبا اعلی تعلیم کے حصول کے لئے نالندہ یونیورسٹی کا رخ کیا کرتے تھے ۔ یعنی پوری دنیا میں جب اماوس کی گھپ تاریکی تھی اس وقت نالندہ یونیورسٹی نے پوری دنیا کو علم و عرفان کی روشنی سے منور کیا وجہ یہ بھی ہےکہ نالندہ ضلع قدیم زمانہ سے ولیوں، رشی مونیوں، سنتوں، شعراء وادبااورعلما کا مسکن رہا حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین ابن احمد یحی منیری رحمت اللہ علیہ نے رشدو ہدایت، نشرو اشاعت تصنیف وتالیف اور تصوف کی تعلیم اور اس کے اوصاف معراج تک پہنچائی ان کی مشہور بیش قیمت کتاب مکتوبات صدی کی تخلیق اور ترویج واشاعت اسی سرزمین سے ہوئی حضرت ابراہیم ملک بیا رحمت اللہ علیہ، حضرت مخدوم چرم پوش رحمت اللہ علیہ نے اس سرزمین پراپنے علم وفنون سے پوری دنیا کے ہر خاص و عام کو فیض پہنچایا اور توحید ووحدانیت کا پیغام دیا اگر ان تمام بزرگان دین سے قبل کی بات کی جائے تو جین مذہب کے بانی مہاویر جین اور بدھ مذہب کے بانی گوتم بدھ جیسے رشی منیوں اور مہاپروشوں کےنام لئے بغیرنالندہ ضلع کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی اہل نالندہ کے علوم و فنون اور حکمت کے کمالات سے پوری دنیابخوبی واقف ہے یہاں کے شعراء و ادبا اور صوفیائے کرام کی نگارشات نے زبان وادب کی تاریخ مرتب ہوتی ہے۔

سیرت النبی کی تاریخی کتاب لکھنے والے سید سلیمان ندوی سے کون واقف نہیں مولانا مظفر بلخی ، مولانا مناظر حسن گیلانی مولاناحمد ابراہیم ، مولانا محمد سجاد ، مولانا احمد سجادمولانا محمد متین ، مولانا رونق استھانوی ، گرد بہاری، جگر بہاری ، یاس بہاری ، احقر بہاری ،ظفر اوگانوی ، ذکی انور ،ظفر چکدینوی،سید عبد القوی دسنوی ، سید شہاب دسنوی، سید شکیل دسنوی، مولانا عبدالصمد، مولانا سید غلام ربانی ، معین الدین دردائی ، مظفرالدین دردائی ،انجم جمالی ،شوکت جمالی،کلیم عاجز ، پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی، علقمہ شبلی، رضوان رضوی ، محمد اسرائیل کیفی ، ارشد حلیم ، سیدتسنیم بلخی ، پروفیسر ایس ٹی امام، سیداعجاز بن ضیااوگانوی، ڈاکٹر اسری ارشد اور عہد حاضر میں پروفیسر عبدالصمد ، ڈاکٹر ہمایوں اشرف ، اقبال حسن آزاد، خورشیداکرم سوز ، مولانا ارشد فردوسی، جسیم احمد فردوسی ، یعقوب اطہر ہلسوی وغیرہ ایسے نام ہیں جن کی پرورش لوح وقلم سے دنیائے اردوادب میں علم وفن کے گل بوٹے تاحال کھل رہے ہیں، ان سبھی کا تعلق اسی دیار سے رہا ہے ۔ اسی مخدوم کی نگری کے پیداوار اردو ادب کی ہمہ غیر شخصیت کا نام عمران راقم ہے ۔ آج کے اردو ادب کے منظر نامے کا ایک اہم نام عمران راقم کا ہے ۔ عہد حاضر کی فہرست میں عمران راقم کا نام ان معنی میں اہمیت کا اور بھی حامل ہے کہ اردو زبان کے فروغ میں عمران راقم نے بےمثال خدمات انجام دئے اور تاحال دے رہے ہیں ۔ عمران راقم نے یوں تو اپنے ادبی سفر کا آغاز 1986میں شعری ادب سے کیا ۔ شاعری کے ساتھ ساتھ 1990 میں ان کی دلچسپی اردو صحافت سے شروع ہوئی ابتدا میں اخباری نمائندہ کی حیثیت سےانہوں نے بہارشریف سےہی روزنامہ سنگم صدائےعام،قومی آواز، انقلاب جدید،پندار، قومی تنظیم ہندوستان ممبئی کی نمائندگی بحیثیت صحافی رپورٹنگ کرتے رہے ۔ صحافتی خدمات کے ساتھ بہارشریف کی ادبی فضا کو ہموار کرنے کی جستجو میں بھی اسی زمانے سے لگے جب بہارشریف میں کوئی ادبی ادارہ نہیں تھا

آج جو بھی ادارہ بہار شریف میں ہے ان میں موصوف کاخون جگر شامل ہے، قلم بردار لٹریری فورم،تحریک اردو لٹریری فورم ،بزم اطہر نالندہ (رجسٹرڈ ) جیسے دیگر ادارے آج جو کام کر رہے ہیں وہ عمران راقم کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ اردو زبان سے جڑے ادبا شعرا کو ایک پلیٹ پر لانے کی جستجو ، ماہانہ ادبی نشست اور اس کے دعوت نامے کی ترسیل جس کے لئے گھر گھر دستک دیتے رہنا اور اردو سے بیزار لوگوں کو اپنی زبان کے تحفظ کے لئے بیدار کرنا ۔ مشاعرے سیمینار اور اردو کے دیگر بڑے پروگرام کے انعقاد کاذمہ تن تنہا اٹھانا ، دن رات اس کی کامیابی کی فکر میں دیوانے رہنا ، اردوکی محبت اور ادب کی صحرانوردی میں اپنے وقت کی قربانی دے کر مال و اسباب نچھاور کرنا عمران راقم کاابتدا سے فطری شیوہ رہا ۔ نئے پرانے شاعروادیب کے لئے اسٹیج مہیا کیا۔ اردو کی محبت میں دن رات جہد کرنا عمران راقم کا ہی حصہ مانا جاتا ہے۔ پورے نالندہ ضلع میں اگر کوئی صحیح معنی میں مجاہد اردو ہونے کا حق ادا کیا تووہ عمران راقم ہی ہیں ۔اردو لکھنا اردو پڑھنا اردو پڑھانا، اردو اوڑھنا اردو بچھانا ان کے شب و روز کے مشاغل میں شامل رہے ہیں ۔ نئی نسل کو اردو زبان سے جوڑنا ان کی تخلیق کی نشرواشاعت کرنا ایسے دیگر بے لوث خدمات انجام دینا عمران راقم کی اردو سے سچی محبت ہی کہی جا سکتی ہے ۔عمران راقم اردو کے باوقار صحافی ماہنامہ صورت کے چیف ایڈیٹر ہیں۔جو نہایت معیاری اور خوبصورت رسالہ ہے اس لئےاکثر لوگ اس رسالے کوصورت کے بجائے خوبصورت کے نام سے جانتے ہیں ۔ یہ رسالہ بےباک اداریہ کے لئے بھی اہل نظر میں مقبول ہے۔صورت اردو زبان وادب کے فروغ نیز نئی نسل کی بھرپور نمائندگی کر رہا ہے ۔ عمران راقم اردو کی تحریک جاری رکھنے کے ساتھ اپنے ادبی فتوحات میں بھی ہم عصروں میں نمایاں نظر آتے ہیں ۔ان کا پہلا شعری مجموعہ "نئی آواز ” 2004 میں منصئہ شہود پر آیا۔ جس کو بہار اردواکادمی نے انعام سے سرفراز کیا ۔اس کے علاوہ کئی اردو اداروں سے انہیں ایوارڈ وتوصیفی سند ملے ۔ جس کی فہرست سازی کرنا میرا مقصد نہیں ہے ۔تاہم شیکھرسمان مرزا غالب ایوارڈ برائے شاعری "غلام سرور ایوارڈ” برائے صحافت کا ذکرکیا جا سکتاہے۔ دوسرا شعری مجموعہ "نئی زمین ” 2015 تیسرا شعری مجموعہ "غزل زار ” 2019میں منظر عام پر آکر ارباب ادب سے دادوتحسین حاصل کیااور اب عمران راقم کا چوتھا شعری مجموعہ دیوان راقم کی شکل میں اشاعت کے مرحلے سے جلد گذرنے والا ہے۔ ان چار کتابوں کے علاوہ بھی عمران راقم کی کچھ کتابیں زیر ترتیب اور منتظر اشاعت ہیں

رہبر گیاوی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button