تجھے حلال ہے مجھ پر حرام تھوڑی ہے
یہ عشق سوچ سمجھ کا غلام تھوڑی ہے
یہ زندگی ہے یہاں ہر خوشی کی قیمت ہے
یہاں پہ مفت قیام و طعام تھوڑی ہے
تُو عادتاً ہی نکلتا ہے گھر سے سج دھج کر
ترے خیال میں یہ قتل ِ عام تھوڑی ہے
میں جاکے کیسے اسے بول دوں وہ میرا ہے
وہ خاص شخص کوئی عام وام تھوڑی ہے
دکھاؤں گی میں تجھے صائمہ وہ شہزادہ
فلک کے پاس ہی ماہِ تمام تھوڑی ہے
سیدہ صائمہ کامران






