آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریملک عتیق

میں کبھی دامِ محبت میں نہیں آیا ہوں

ملک عتیق کی ایک غزل

میں کبھی دامِ محبت میں نہیں آیا ہوں
اس لیے عالمِ وحشت میں نہیں آیا ہوں

گرمئی عشق کی لذت نہیں چھوٹی مجھ سے
دنیا داروں کی نصیحت میں نہیں آیا ہوں

جنگ جیتے ہیں مرے دم سے ہی لشکر والے
میں کوئی مالِ غنیمت میں نہیں آیا ہوں

مے کدے میں مجھے کچھ دیر پڑا رہنے دو
میں ابھی اپنی طبیعت میں نہیں آیا ہوں

ہجر پہلے بھی کئی بار سہا ہے لیکن
میں کبھی اتنی مصیبت میں نہیں آیا ہوں

ملک عتیق

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button