ملکی سلامتی اور دہشت گردی کا بڑھتا ہوا خطرہ
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
پاکستان اس وقت اندرونی طور پر ایک نازک اور پیچیدہ سلامتی کی صورتِ حال سے دوچار ہے۔ گزشتہ برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2024 میں کل 2,500 سے زائد شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ درجنوں عسکریت پسند ہلاک کیے گئے۔ ان حملوں میں زیادہ تر کردار ٹی ٹی پی اور دیگر گروپوں کا رہا ہے جن کی پشت پناہی حدِ درجہ تشویش ناک ہے۔ یہ گروہ افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں سے پاکستان میں دراندازی کرتے ہیں اور سب سے زیادہ نشانہ خیبر پختون خواہ کے قبائلی اور سرحدی علاقے بنتے ہیں۔
خیبر پختون خواہ میں صورتِ حال خاص طور پر سنگین ہے۔ شمالی وزیرستان اور باجوڑ میں دہشت گردی کی لپیٹ سخت ہے۔ جون 2025 میں میر علی کے علاقے میں ایک خودکش بمبار نے فوجی قافلے کو نشانہ بنایا، جس میں 16 فوجی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ فروری میں نوشہرہ کے علاقے آکورا خٹک میں دارالعلوم حقانیا پر ہونے والے خودکش دھماکے نے پورے ملک کو لرزا دیا۔ اس حملے میں کئی نمازی شہید ہوئے اور ذمہ داری کا شبہ داعش خراسان پر ڈالا گیا۔ اسی طرح جنوبی وزیرستان کے وانہ میں ایک پولیس گاڑی پر بم دھماکہ ہوا جس سے دو پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ دوسری طرف باجوڑ میں جاری ”آپریشن سربکاف” نے بھی اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ ریاست کے سامنے دہشت گردوں کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا، اگرچہ اس دوران متعدد عسکریت پسند ہلاک بھی کیے گئے۔
یہ تمام واقعات اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر متعدد مواقع پر اس بابت واضح مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کے خلاف عملی کارروائی نہیں کی جاتی، پاکستان میں مکمل امن قائم نہیں ہو سکتا۔ وہ بارہا یہ بھی باور کرا چکے ہیں کہ دہشت گردی کے پیچھے بیرونی ہاتھ بھی شامل ہیں اور بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف خفیہ کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ان کے سخت بیانات کو بعض حلقے دفاعی پالیسی کی مضبوطی سمجھتے ہیں، مگر بین الاقوامی میڈیا میں یہ خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں کہ ان کی زبان میں شدت عالمی برادری کے سامنے پاکستان کے لیے ایک مشکل پیغام بن سکتی ہے۔
افغان طالبان کا رویہ بھی پاکستان کے لیے مستقل پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ 2021 میں جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو پاکستان نے یہ توقع کی تھی کہ نئی افغان حکومت سرزمین کو دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانے اب بھی افغانستان میں موجود ہیں اور وہیں سے پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔ بارہا سفارتی سطح پر پاکستان نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان گروہوں کے خلاف عملی کارروائی کرے، لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی بڑی پیش رفت نظر نہیں آئی۔
یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ پاکستان اپنی حکمت عملی پر نئے سرے سے غور کرے۔ صرف فوجی آپریشن کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں کی ترقی، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع، اور سماجی انصاف کی فراہمی بھی ضروری ہے۔ یہ بھی وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک مؤثر سفارتی حکمت عملی کے تحت افغان طالبان پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں اور ٹی ٹی پی کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ داخلی سلامتی کا مسئلہ کسی ایک ادارے کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ فوج کی قربانیاں اپنی جگہ، مگر عوامی حمایت، سیاسی استحکام، اور علاقائی تعاون کے بغیر دہشت گردی پر قابو پانا مشکل ہے۔ آرمی چیف کا موقف اپنی جگہ درست ہے کہ افغانستان کے کردار کے بغیر یہ جنگ جیتی نہیں جا سکتی، لیکن ساتھ ہی پاکستان کو اپنی داخلی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔
میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر آج ہم نے دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر متحد ہو کر اقدامات نہ کیے تو آنے والے دنوں میں یہ خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان کی بقا اسی میں ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور سرحد پار سے دہشت گردی کے معاملے پر افغان حکومت کو مؤثر طور پر قائل کریں۔ یہی راستہ ہمیں امن اور استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔
یوسف صدیقی








