آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعُظمی جَون
ہونے پہ اپنے آپ کے نازاں ہوئی غزل
ایک اردو غزل از عُظمی جٙون
ہونے پہ اپنے آپ کے نازاں ہوئی غزل
جب مطربہ کے ہونٹ پہ رقصاں ہوئی غزل
صیاد، شمع، جام، گلِ تر کے ساتھ ساتھ
غم ہائے روزگار کا عنواں ہوئی غزل
ریشم سے، مرمریں سے، ملائم، گداز سے
لفظوں کے انتخاب پہ نازاں ہوئی غزل
توصیفِ مَہ رُخاں کو رقم کر رہا تھا میں،
توصیفِ مَہ رُخاں میں ہی جاناں ہوئی غزل
سوچوں سے کب نجات ملی جانِ جاں مجھے
سوچوں میں ایک روز تھا غلطاں، ہوئی غزل
کُھلتے نہیں ہیں ہر کٙس و ناکٙس پہ خال و خط
اہلِ سخن کے سامنے عریاں ہوئی غزل
عُظمی وہ جس کی یاد اُداسی کا ہے سبب
عُظمی اُسی کے ذکر سے شاداں ہوئی غزل
عُظمی جٙون








