- Advertisement -

ہر سوال اب مرا شِکستہ ہے

فرزانہ نیناں کی اردو غزل

ہر سوال اب مرا شِکستہ ہے
وہ جواباً زبانِ بستہ ہے
روح مضبوط کیسے رکھوں میں
جسم میرا ازل سے خستہ ہے
زندگی کے ہزار رستے ہیں
میرے قدموں کا ایک رستہ ہے
سبق آگے کا میں پڑھوں کیسے
پاس میرے تو پہلا بستہ ہے
ہے بلند آدمی ذہانت سے
ذہنیت پست ہو تو پستہ ہے
اس کا تیار ہو گیا تختہ
چھین کر تخت جو نشستہ ہے
دردِ دل کا سبق کیا تھا حفظ
یاد نیناں وہ جستہ جستہ ہے

فرزانہ نیناں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
فرزانہ نیناں کی اردو غزل