نگاہوں سے ترے دل میں اتر جانے کی خواہش ہے
کہ چاہت میں تری جاں سے گزر جانے کی خواہش ہے
کئی دن سے بھٹکتی پھر رہی ہوں دشت و صحرا میں
بس اب میں تھک چکی ہوں، مجھ کو گھر جانے کی خواہش ہے
کہاں ہے گھر مرا جانے، کہاں ہے اب مری منزل
نہیں معلوم ہے کچھ بھی، مگر جانے کی خواہش ہے
جو کہتے تھے نبھائیں گے وفا اب زندگی بھر ہم
انہیں اپنے ہی وعدوں سے مکر جانے کی خواہش ہے
قیامت تک بھلا پائیں نہ جس کو یہ جہاں والے
کچھ اپنی زندگی میں ایسا کر جانے کی خواہش ہے
گزشتہ عمر میں جو ہو چکا، سو ہو چکا لیکن
الہی اب روبینہؔ کو، سدھر جانے کی خواہش ہے
روبینہ شاد







