آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

تعلیم اور روزگار کا ربط

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت نے زندگی کے ہر شعبے کو نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔ ایسے وقت میں وہی قومیں کامیاب ہو سکتی ہیں جو اپنی تعلیم کو عملی تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم اور روزگار کا ربط ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ ہمارے نوجوان ڈگریاں تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر عملی دنیا میں قدم رکھتے ہی یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ ان کے پاس وہ مہارتیں اور تجربہ نہیں جن کی صنعتوں اور اداروں کو ضرورت ہے۔

پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا نوجوان طبقہ ہے۔ آبادی کا تقریباً 64 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ مگر یہ طاقت اس وقت کمزوری میں بدل رہی ہے کیونکہ لاکھوں نوجوان ہر سال یونیورسٹیوں اور کالجوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے بیشتر کو روزگار نہیں ملتا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے مطابق ملک میں گریجویٹ بے روزگاری کی شرح 2018-19 میں 14 فیصد تھی جو 2020-21 میں بڑھ کر 16 فیصد ہو گئی۔ یہ شرح ملک کی عمومی بے روزگاری سے دوگنی ہے۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ خواتین گریجویٹس میں بے روزگاری کا تناسب 33 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ دیہی علاقوں کے نوجوانوں کے لیے یہ شرح شہری نوجوانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ انجینئرنگ جیسے اہم شعبے میں دو برسوں کے دوران بے روزگاری کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 23 فیصد تک جا پہنچی۔ کمپیوٹر سائنس اور زراعت کے شعبوں میں بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ ہمارا تعلیمی ڈھانچہ مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کو تیار کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ہمارے تعلیمی اداروں میں نصاب زیادہ تر کتابی علم تک محدود ہے۔ عملی تربیت، soft skills، جدید ٹیکنالوجی اور انڈسٹری کی ضروریات کو اس میں جگہ نہیں دی جاتی۔ یونیورسٹیاں صنعتی اداروں اور مارکیٹ کی ضروریات سے کٹی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ وہ نہیں سیکھتے جس کی کمپنیوں اور اداروں کو ضرورت ہے۔ انٹرنشپ اور اپرنٹسشپ پروگرام ناکافی ہیں، اس لیے طلبہ دورانِ تعلیم ہی عملی تجربہ حاصل نہیں کر پاتے۔ پاکستان میں لاکھوں نوجوان جدید ڈیجیٹل ٹولز اور مہارتوں سے ناآشنا ہیں، حالانکہ آج کی دنیا میں آئی ٹی، ای کامرس اور فری لانسنگ سب سے زیادہ مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ معاشرتی رویہ بھی اس مسئلے کو مزید گہرا کرتا ہے، کیونکہ والدین اور معاشرہ اب بھی صرف ڈاکٹر، انجینئر یا سرکاری ملازمت کو کامیابی کا معیار سمجھتے ہیں۔ ہنر مند پیشے یا فری لانسنگ کو اکثر کم تر سمجھا جاتا ہے۔

دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے تعلیم کو براہِ راست ہنر اور روزگار سے جوڑا ہے۔ چین نے اپنی زبان اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کو ترقی کا ذریعہ بنایا۔ جرمنی نے "Dual System” کے تحت تعلیم اور صنعت کو ملا کر طلبہ کو عملی میدان کے لیے تیار کیا۔ بھارت کے آئی ٹی شعبے نے لاکھوں نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ سے جوڑ دیا اور معیشت کو اربوں ڈالر کی برآمدات فراہم کیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں تعلیم کا ڈھانچہ اب بھی بیسویں صدی کے مطابق ہے، جب کہ دنیا اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی میں آگے نکل چکی ہے۔

اگرچہ صورتحال پریشان کن ہے مگر امکانات کی کمی نہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں نے فری لانسنگ اور آئی ٹی کے شعبے میں عالمی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ پاکستان اس وقت دنیا کے چوتھے بڑے فری لانسنگ ملک کے طور پر جانا جاتا ہے اور صرف Fiverr اور Upwork جیسے پلیٹ فارمز پر ہزاروں نوجوان لاکھوں ڈالر کما رہے ہیں۔ DigiSkills.pk جیسے پروگرامز کے ذریعے لاکھوں طلبہ کو آن لائن تعلیم اور فری لانسنگ کی تربیت دی جا رہی ہے۔ اسی طرح حکومت اور نجی شعبے اگر انٹرنشپ، اپرنٹسشپ، اور یونیورسٹی-انڈسٹری پارٹنرشپ کو فروغ دیں تو نوجوان گریجویٹس کے لیے روزگار کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ نصاب کو کتابی علم سے نکال کر عملی تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور ہنر پر مبنی بنایا جائے۔ تعلیمی ادارے اور صنعتیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر تربیتی پروگرام اور ریسرچ پراجیکٹس کریں۔ ہر طالب علم کے لیے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی تعلیم لازمی قرار دی جائے۔ DigiSkills اور e-Rozgaar جیسے منصوبوں کو مزید وسعت دی جائے۔ اداروں میں انٹرنشپ، ٹریننگ اور اپرنٹسشپ کو لازمی کیا جائے۔ والدین اور معاشرے کو یہ سمجھانا ہوگا کہ کامیابی صرف ڈاکٹر یا انجینئر بننے میں نہیں، بلکہ ہنر، تجربہ اور تخلیقی سوچ میں بھی ہے۔

پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہونا چاہتا ہے تو تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود خلا کو ختم کرنا ہوگا۔ ڈگری اپنی جگہ اہم ہے مگر صرف ڈگری کافی نہیں۔ علم کے ساتھ عمل، ڈگری کے ساتھ ہنر اور تعلیم کے ساتھ روزگار کا ربط ہی وہ نسخہ ہے جو ہمارے نوجوانوں کو کامیاب بنا سکتا ہے اور ملک کو ایک روشن اور خوشحال مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button