وہ جس کے پیار کی بارش تھا گیلا بدن میرا
اُسی کے سرد لہجے سے ہُوا نِیلا بدن میرا
کَسے رہتے ہیں خال و خد مرے اِس کَسرتی تن کے
کسی کی نرم بانہوں میں ہوا ڈھیلا بدن میرا
شجر سے پھول پودوں سے مِرا رشتہ پرانا ہے
اُدھر پیلے پڑے پتے، اِدھر پِیلا بدن میرا
زمانے بھر کے لوگوں نے بدن کو چھید ڈالا ہے
مُحبّت سے رفو کر کے صنم سی لا بدن میرا
سبھی پر ہو گیا ظاہر مرے اندر کا نیک و بد
کسی کے ہجر تیشے نے غضب چِھیلا بدن میرا
نمی نے جذب کر ڈالے تری چنری کے کچے رنگ
دھنک کے سات رنگوں سے ہے رنگیلا بدن میرا
اسے ہر حال میں مجھ سے مراسم توڑنا ہی تھے
بہانہ کچھ نہ سوجھا تو بنا حیلہ بدن میرا
میں تھا آسودہءِ رنگ و گل و خوشبو بہت پہلے
دکھوں کی ریت پڑ پڑ کر بنا ٹِیلہ بدن میرا
عُظمی جٙون








