آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعُظمی جَون

وہ جس کے پیار کی بارش

ایک اردو غزل از عُظمی جٙون

وہ جس کے پیار کی بارش تھا گیلا بدن میرا
اُسی کے سرد لہجے سے ہُوا نِیلا بدن میرا

کَسے رہتے ہیں خال و خد مرے اِس کَسرتی تن کے
کسی کی نرم بانہوں میں ہوا ڈھیلا بدن میرا

شجر سے پھول پودوں سے مِرا رشتہ پرانا ہے
اُدھر پیلے پڑے پتے، اِدھر پِیلا بدن میرا

زمانے بھر کے لوگوں نے بدن کو چھید ڈالا ہے
مُحبّت سے رفو کر کے صنم سی لا بدن میرا

سبھی پر ہو گیا ظاہر مرے اندر کا نیک و بد
کسی کے ہجر تیشے نے غضب چِھیلا بدن میرا

نمی نے جذب کر ڈالے تری چنری کے کچے رنگ
دھنک کے سات رنگوں سے ہے رنگیلا بدن میرا

اسے ہر حال میں مجھ سے مراسم توڑنا ہی تھے
بہانہ کچھ نہ سوجھا تو بنا حیلہ بدن میرا

میں تھا آسودہءِ رنگ و گل و خوشبو بہت پہلے
دکھوں کی ریت پڑ پڑ کر بنا ٹِیلہ بدن میرا

عُظمی جٙون

post bar salamurdu

عُظمی جَون

عُظمی جَون- سِبّی : بلوچستان-دو شعری مجموعوں کے خالق :*خِزاں کی رُت سُنہری ہے**ستارے میرے آنسو ہیں*- پروفیسر/پرنسپل (ریٹائرڈ)- مقامی، صوبائی، ملکی اور عالمی مشاعروں میں شرکت۔ لاتعداد ایوارڈ و اسناد یافتہ۔ *فن اور شخصیت*- *خِزاں کی رُت سُنہری ہے کا فنی جائزہ* - *"خِزاں کی رُت سُنہری ہے" کا تنقیدی جائزہ*- *عُظمی جَون کی شاعری میں روایت و جدیدیت کا تقابلی جائزہ* جیسے عنوانات کے تحت BS, ایم ایس اور M.Phil کی سطح پر تحقیقی مقالہ جات۔ Face Book, YouTube، Instagram جیسے سوشل میڈیا پر Uzmee Jaon کے نام سے چینل اور پیجز۔ریختہ اور گوگل پر مواد موجود۔آذربائیجان میں عارضی رہائش۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button