اردو غزلیاتشعر و شاعریقمر رضا شہزاد

حیرت ہے کہ جو ظلم سے تقدیر بنائیں

قمر رضا شہزاد کی اردو غزل

حیرت ہے کہ جو ظلم سے تقدیر بنائیں

کچھ لوگ انہیں صاحب توقیر بنائیں

اک خواب میں رکھیں کوئی گزرا ہوا لمحہ

اک خواب سے آئندہ کی تعبیر بنائیں

پتھر پہ کریں نقش ترے ہجر کا قصہ

پانی پہ ترے وصل کی تصویر بنائیں

شاید کسی زندان سے نکلے نہیں اب تک

یہ لوگ جو کاغذ پہ بھی زنجیر بنائیں

اک بار اگر باب سخن ہم پہ بھی کھل جائے

اس شخص کو بھی معتقد میرؔ بنائیں

قمر رضا شہزاد

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button