اردو غزلیاتشعر و شاعریناہید ورک

میرے احساس کے آنگن میں اُتر جانے کا

ناہید ورک کی اردو غزل

میرے احساس کے آنگن میں اُتر جانے کا
غم کو آتا ہے ہنر دل مرا بہلانے کا
فائدہ کچھ بھی نہیں زخموں کو دکھلانے کا
اعتبار اُس کو کبھی ہم پہ نہیں آنے کا
بات دل کی میں بھلا کیسے ترے ساتھ کروں
ہر گھڑی تجھ پہ گماں ہے کسی بیگانے کا
تیرا قصّہ بھی نئے موڑ پہ آیا شاید
رُخ بدلنے کو ہے اب میرے بھی افسانے کا
خود کو سمجھا تو لیا میں نے مگر اے ہمدم
کچھ سبب تو ہو ترے روٹھ کے یوں جانے کا
اپنی سوچوں کے دریچوں کو کھُلا رکھ ناہید
اک یہی راستہ ہے تازہ ہوا آنے کا

ناہید ورک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button