آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعدنان سرمد

یہ جو منظر میں تابانی ہے بھائی

عدنان سرمد کی ایک اردو غزل

یہ جو منظر میں تابانی ہے بھائی
کسی کی آنکھ مستانی ہے بھائی

خدا سے یاد اللہ تھی ضروری
ہمارا کھیت بارانی ہے بھائی

بگولہ خیر مقدم کر رہا ہے
یہی صحرا کی مہمانی ہے بھائی

میں اس ویرانے سے پہلے بھی گزرا
وہی پہلی سی ویرانی ہے بھائی

یہ سورج مرکزے سے ہٹ رہا ہے
طبیعت اس کی سیلانی ہے بھائی

کہاں سے سیکھا ہے آئینہ بننا
تری آنکھوں میں حیرانی ہے بھائی

یہ میرے قتل کا باعث بنے گی
یہی جو بوئے سلطانی ہے بھائی

عدنان سرمد

post bar salamurdu

عدنان سرمد

عدنان سرمد ایک اردو شاعر ہیں، وہ گوجرانوالہ میں رہتے ہیں اور مختلف اردو مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button