یہ جو منظر میں تابانی ہے بھائی
کسی کی آنکھ مستانی ہے بھائی
خدا سے یاد اللہ تھی ضروری
ہمارا کھیت بارانی ہے بھائی
بگولہ خیر مقدم کر رہا ہے
یہی صحرا کی مہمانی ہے بھائی
میں اس ویرانے سے پہلے بھی گزرا
وہی پہلی سی ویرانی ہے بھائی
یہ سورج مرکزے سے ہٹ رہا ہے
طبیعت اس کی سیلانی ہے بھائی
کہاں سے سیکھا ہے آئینہ بننا
تری آنکھوں میں حیرانی ہے بھائی
یہ میرے قتل کا باعث بنے گی
یہی جو بوئے سلطانی ہے بھائی
عدنان سرمد








