- Advertisement -

وہ خواب دکھاتے ہے ساکار نہیں کرتے

جیوتی آزاد کھتری کی ایک اردو غزل

وہ خواب دکھاتے ہے ساکار نہیں کرتے

الفت سے مگر کھل کے انکار نہیں کرتے

بس بات کوئی ان کو سمجھا دے یے اتنی سی

رشتوں میں کبھی کوئی بیوپار نہیں کرتے

دل اس نے کیا چھلنی بے رحمی سے پیش آیا

دشمن پے بھی ہم اپنے یوں وار نہیں کرتے

دیکھا ہے محبت میں برباد ہوئے کتنے

ہم دل کو بچاتے ہے بیمار نہیں کرتے

طوفان کوئی آئے اس راہ محبت میں

اس دل کو کبھی اپنے بیزار نہیں کرتے

ہم اچھے برے جیسے بھی سامنے ہے سب کے

ہم اپنی حقیقت سے انکار نہیں کرتے

مانا کی ہوئے زخمی یے قلب و جگر لیکن

ہم زخم چھپاتے ہیں اخبار نہیں کرتے

جیوتی آزاد کھتری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
جیوتی آزاد کھتری کی ایک اردو غزل