کبھی تو دیکھیں وصال آنکھیں
مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل
کبھی تو دیکھیں وصال آنکھیں، کمال آنکھیں
بتائیں سب دل کا حال، آنکھیں، کمال آنکھیں
لبوں پہ تالے لگاؤ بے شک، ہمارے لیکن
کریں گی پھر بھی سوال آنکھیں، کمال آنکھیں
ہماری نظروں سے اپنا چہرہ کبھی پڑھا ہے؟
بڑھائیں تیرا، جمال آنکھیں، کمال آنکھیں
نہیں سہیں گے، ستم تمہارے، یہی کہیں گے
بھلے کوئی دے،نکال آنکھیں، کمال آنکھیں
ہمارے پیارے،جو لاپتہ ہیں،بتا کہاں ہیں
ہوئی ہیں غم سے، نڈھال آنکھیں، کمال آنکھیں
ہمیں پتہ تھا، خلاف تیرے، اٹھیں گی اک دن
کریں گی ایسی، مجال آنکھیں، کمال آنکھیں
کریں پہاڑوں، کا رخ نہ کیسے، بتاؤ ایسے
گنوا کے اہل و عیال آنکھیں، کمال آنکھیں
سکوں کی نیندوں سے دور رہنے لگی ہیں جاناں
بتاؤ کب سے یہ لال آنکھیں، کمال آنکھیں
اذیّتوں کو، بیان کرنے لگا ہوں ورنہ
کبھی تھیں میرا، خیال آنکھیں، کمال آنکھیں
بدن کے ٹکڑے، پڑے ہوئے گر، ملیں مظفرؔ
خدارا پہلے، سنبھال آنکھیں، کمال آنکھیں
مظفرؔ ڈھاڈری







