آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتصابر رضوی

باہر کا دروازہ بھی ہم درد نہیں

صابر رضوی کی ایک اردو غزل

باہر کا دروازہ بھی ہم درد نہیں
جب تک گھر کے اندر کوئی مرد نہیں

جتنی شیش محل سے نکلی آتی ہے
ریگستانوں میں بھی اتنی گرد نہیں

جن لمحوں میں آوازیں جم جاتی ہیں
ان لمحوں میں دل کا لہجہ سرد نہیں

اک دن مجھ کو آئینے نے بتلایا
دنیا میں تجھ ایسا کوئی فرد نہیں

پیڑ نمو خیزی سے باز نہ آئیں گے
جب تک ہم چشموں کا پانی زرد نہیں

یہ دریا کوزے میں بند نہیں ہوتا
یہ شعروں میں ڈھلنے والا درد نہیں

کہساروں سی باتیں کرنے والوں میں
اب کوئی فرہاد سا بھی پامرد نہیں

فاختہ جن سے رستہ پوچھتی رہتی ہے
وہ جگنو ان باغوں کے پرورد نہیں

علی صابر رضوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button