آپ کا سلاماردو غزلیاتثوبیہ نورین نیازیشعر و شاعری
ہاتھ اٹھا اور یہ دعا کر دے
ثوبیہ نورین نیازی کی ایک اردو غزل
ہاتھ اٹھا اور یہ دعا کر دے
رب مجھے خود سے آشنا کر دے
آگے تقدیر میں جو ہو سو ہو
تو فقط وعدہ وفا کر دے
اب جو پاؤں وہ تیرے نام کا ہو
چاہے تو درد ہی عطا کر دے
مجھ پہ تعزیر عشق لگتی ہے
قید کر یا مجھے رہا کر دے
وہ باضد ہے اگر جدائی پہ
مسکراتے ہوئے جدا کر دے
تو نےنورین وصل سوچا تھا
وہ جو چاہے تو کچھ نیا کر دے
ثوبیہ نورین نیازی








