A True Salam To Urdu Literature

Yaadsh Bakheria

A Funny Urdu Tehreer By Yousafi

یادش بخیریا

یادش بخیر! مجھے وہ شام کبھی نہ بھولے گی جب آخر کار آغا تلمیذ الرحمن چاکسوی سے تعارف ہوا۔ سنتے چلے آئے تھے کہ آغا اپنے بچپن کے ساتھیوں کے علاوہ، جواب ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے، کسی سے نہیں ملتے اورجس سہمے سہمے انداز سے انھوں نے مجھ سے مصافحہ کیا، بلکہ کرایا اس سے بھی یہی ہویدا تھا کہ ہر نئے ملاقاتی سے ہاتھ ملانے کے بعد وہ اپنی انگلیاں ضرور گن لیتے ہوں گے۔ دشمنوں نے اڑا رکھی تھی کہ آغا جن لوگوں سے ملنے کے متمنی رہے ان تک رسائی نہ ہوئی اور جو لوگ ان سے ملنے کے خواہش مند تھے، اُن کو منہ لگانا انھوں نے کسرِ شان سمجھا۔ انھوں نے اپنی ذات ہی کو انجمن خیال کیا، جس کا نتیجہ یہ ہُوا کہ مستقل اپنی ہی صحبت نے ان کو خراب کر دیا۔ لیکن وہ خُود اپنی کم آمیزی کی توجیہ یُوں کرتے تھے کہ جب پُرانی دوستیاں نبھانے کی توفیق اور فُرصت میسر نہیں تو نئے لوگوں سے مِلنے سے فائدہ؟ رہے پُرانے دوست، سو اُن سے بھی ملنے میں زیادہ لُطف، عافیت محسُوس کرتے۔ اس لیے کہ وہ نفسیات کے کسِی فارمُولے کی گمراہ کُن روشنی میں اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ مِل کے بچھڑنے میں جو دُکھ ہوتا ہے، وہ ذرا دیر مِل بیٹھنے کی وقتی خوشی سے سات گنا شدید اور دیر پا ہوتا ہے اور بیٹھے بٹھائے اپنے دکھوں میں اضافہ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ سُنا یہ ہے کہ وہ اپنے بعض دوستوں کو محض اس بناء پر محبوب رکھتے تھے کہ وہ ان سے پہلے مر چکے تھے اور ازبسکہ ان سے ملاقات کا امکان مستقبل قریب میں نظر نہیں آتا تھا، لہٰذا ان کی یادوں کو حنوط کر کے انھوں نے اپنے دل کے ممی خانے میں بڑے قرینے سے سجارکھا تھا۔
لوگوں نے اتنا ڈرا رکھا تھا کہ میں جھجکتا ہُوا آغا کے کمرے میں داخل ہُوا۔ یہ ایک چھوٹا سا نیم تاریک کمرہ تھا جس کے دروازے کی تنگی سے معاً خیال گزرا کہ غالباً پہلے موروثی مسہری اور دُوسری بھاری بھر کم چیزیں خوب ٹھسا ٹھس جما دی گئیں، اس کے بعد دیواریں اٹھائی گئی ہوں گی۔ میں نے کمال احتیاط سے اپنے آپ کو ایک کونے میں پارک کر کے کمرے کا جائزہ لیا۔ سامنے دیوار پر آغا کی رُبع صدی پُرانی تصویر آویزاں تھی۔ جس میں وہ سیاہ گاؤن پہنے، ڈگری ہاتھ میں لیے، یونیورسٹی پر مُسکرا رہے تھے۔ اس کے عین مقابل، دروازے کے اُوپر دادا جان کے وقتوں کی ایک کاواک گھڑی ٹنگی ہُوئی تھی جو چوبیس گھنٹے میں صرف دو دفعہ صحیح وقت بتاتی تھی۔ (یہ پندرہ سال سے سوا دو بجا رہی تھی) آغا کہتے تھے کہ اِس گئی گزری حالت میں بھی یہ ان “ماڈرن” گھڑیوں سے بدرجہا بہتر ہے جو چلتی تو چوبیس گھنٹے ہیں مگر ایک دفعہ بھی ٹھیک وقت نہیں بتاتیں۔ جب دیکھو ایک منٹ آگے ہوں گی یا ایک منٹ پیچھے۔
دائیں جانب ایک طاقچے میں جو فرش کی بہ نسبت چھت سے زیادہ نزدیک تھا، ایک گراموفون رکھا تھا، جس کی بالا نشینی پڑوس میں بچوں کی موجودگی کا پتہ دے رہی تھی، ٹھیک اس کے نیچے چیڑ کا ایک لنگڑا اسٹول پڑا تھا، جس پر چڑھ کر آغا چابی دیتے اور چھپّن چھُری اور بھائی چھیلا پٹیالے والے کے گھسِے گھسائے ریکارڈ سنتے (سُننے میں کانوں سے زیادہ حافظے سے کام لیتے تھے) اس سے ذرا ہٹ کر برتنوں کی الماری تھی جس میں کتابیں بھری پڑی تھیں ان کے محتاط انتخاب سے ظاہر ہوتا تھا کہ اُردو میں جو کچھ لِکھا جانا تھا وہ پچیس سال قبل لِکھا جا چکا ہے۔ (اُسی زمانے میں سُنا تھا کہ آغا جدید شاعری سے اِس حد تک بے زار ہیں کہ نئے شاعروں کو ریڈیو سیٹ پر بھی ہُوٹ کرنے سے باز نہیں آتے۔ اکثر فرماتے تھے کہ ان کی جوان رگوں میں روشنائی دوڑ رہی ہے) آتش دان پرسیاہ فریم جڑا ہُوا الوداعی سپاس نامہ رکھا تھا جو اُن کے ماتحتوں نے پندرہ سال قبل پُرانی دِلّی سے نئی دِلّی تبادلہ ہونے پر پیش کیا تھا۔ اسی تقریب میں یادگار کے طور پر آغا نے اپنے ماتحتوں کے ساتھ گروپ فوٹو بھی کھنچوایا جس میں آغا کے علاوہ ہر شخص نہایت مطمئن و مسُرور نظر آتا تھا۔ یہ پائینتی ٹنگا تھا تاکہ رات کو سونے سے پہلے اور صُبح اُٹھنے کے بعد آئینۂ ایّام میں اپنی ادا دیکھ سکیں۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت آغا تین درویش صُورت بزرگوں کے حلقے میں مہابلی اکبر کے دور کی خوبیاں اور برکتیں نہایت وارفتگی سے بیان کر رہے تھے۔ گویا سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ ابو الفضل کے قتل تک پہنچتے تو ایسی ہچکی بندھی کہ معلوم ہوتا تھا انھیں اس واردات کی اطّلاع ابھی ابھی ملی ہے۔ اس حرکت پر وہ شیخو کو ڈانٹ ڈپٹ کر ہی رہے تھے کہ اتنے میں پہلا درویش بول اُٹھا: “اماں چھوڑو بھی۔ بھلا وہ بھی کوئی زمانہ تھا۔ جب لوگ چار گھنٹے فی میل کی رفتار سے سفر کرتے تھے۔ اور رؤسا تک جمعہ کے جمعہ نہاتے تھے۔” اس کا مُنہ آغا نے یہ کہہ کر بند کر دیا کہ حضرت اُس سُنہری زمانے میں ایسی سڑی گرمی کہاں پڑتی تھی؟ پھر پروفیسر شکلا نے آغا کی ہاں میں ہاں مِلاتے ہُوئے ارشاد فرمایا کہ ہمارے سمے میں بھی بھارت درش کی برکھا رُت بڑی ہی سُندر ہوتی تھی (مجھے بعد میں پتہ چلا کہ ہمارے سمے سے ان کی مراد ہمیشہ چند رگُپت موریہ کا عہد ہوتا تھاجس پر وہ تین دفعہ “تھیسس” لکھ کر نا منظور کروا چکے تھے) اس مقام پر چگی ڈاڑھی والا درویش ایکا ایکی اوچھا وار کر گیا۔ بولا “آغا! تم اپنے وقت سے ساڑھے تین سو برس بعد پیدا ہوئے ہو۔” اس پر آغا، شکلا جی کی طرف آنکھ مار کر کہنے لگے کہ “تمھارے حساب سے یہ غریب تو پُورے دو ہزار سال لیٹ ہو گیا۔ مگر میں تم سے ایک بات پُوچھتا ہوں۔ کہ کیا تم اپنے تئیں قبل از وقت پیدا ہونے والوں میں شمار کرتے ہو؟ کیا سمجھے؟”
شکلا جی شرماتے لجاتے پھر بیچ میں کُود پڑے “اگر تمہارا مطلب وہی ہے جو میں سمجھا ہُوں تو بڑی ویسی بات ہے۔”
یہ نوک جھونک چل رہی تھی کہ پہلا درویش پھر گمبھیر لہجے میں بولا “قاعدہ ہے کہ کوئی دور اپنے آپ سے مطمئن نہیں ہوتا۔ آج آپ اکبر اعظم کے دور کو یاد کر کے روتے ہیں۔ لیکن یقین ہے کہ اگر آپ اکبر کے عہد میں پیدا ہوتے تو علاء الدین خلجی کے وقتوں کو یاد کر کے آبدیدہ ہوتے۔ اپنے عہد سے غیر مطمئن ہونا بجائے خود ترقّی کی نشانی ہے۔”
“سچ تو یہ ہے کہ حکومتوں کے علاوہ کوئی بھی اپنی موجودہ ترقّی سے مطمئن نہیں ہوتا”
چُگی ڈاڑھی والے درویش نے کہا۔
میں نے پہلے درویش کو سہارا دیا
“آپ بجا فرماتے ہیں۔ اِسی بات کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر کوئی باپ اپنے بیٹے سے سو فی صد مطمئن ہے تو سمجھ لیجئے کہ یہ گھرانا رُو بہ زوال ہے۔ برخلاف اس کے، اگر کوئی بیٹا اپنے باپ کو دوستوں سے ملانے سے شرمانے لگے تو یہ علامت ہے اِس بات کی کہ خاندان آگے بڑھ رہا ہے۔”
“مگراس کو کیا کیجئے کہ آج کل کے نوجوان مطلب کی خاطر باپ کو بھی باپ ہی مان لیتے ہیں! کیا سمجھے؟” آغا نے کہا۔
سب کو بڑا تعجب ہوا کہ آغا پہلی ملاقات میں مُجھ سے بے تکلّف ہو گئے۔۔۔ اتنے کہ دوسری صُحبت میں انھوں نے مجھے نہ صرف اپنا پہلونٹی کا شعر بڑے لحن سے سُنایا بلکہ مجھ سے اپنے وہ اداریے بھی پڑھوا کر سُنے جو سترہ اٹھارہ سال پہلے اُنھوں نے اپنے ماہ نامے “سُرودِ رفتہ” میں پُرانی نسل کے بارے میں مندرجہ ذیل نوٹ کے ساتھ شائع کیے تھے :
“قارئین کا اڈیٹر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ”
یہ ربط ضبط دن بدن بڑھتا گیا۔ میں اس تقّربِ خاص پر نازاں تھا گو کہ حاسدوں کو۔۔اور خود مجھے بھی۔۔اپنی سیرت میں بظاہر کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی تھی جو آغا کی پسندیدگی کا باعث ہو۔ خیر ایک روز اُنھوں نے خود یہ عقدہ حل کر دیا۔ فرمایا تمھاری صورت عین مین ہمارے ایک ماموں سے مِلتی ہے جو میٹرک کا نتیجہ نکلتے ہی ایسے رُو پوش ہُوئے کہ آج تک مفقود الخبر ہیں۔”
انگریزوں کا وطیرہ ہے کہ وہ کسی عمارت کو اس وقت تک خاطر میں نہیں لاتے جب تک وہ کھنڈر نہ ہو جائے۔ اسی طرح ہمارے ہاں بعض محتاط حضرات کِسی کے حق میں کلمۂ خیر کہنا روا نہیں سمجھتے تا وقتیکہ ممدُوح کا چہلم نہ ہو جائے۔ آغا کو بھی ماضی بعید سے، خواہ اپنا ہو یا پرایا، والہانہ وابستگی تھی۔ جس کا ایک ثبوت ان کی 1927ء ماڈل کی فورڈ کار تھی جو انھوں نے 1955ء میں ایک ضعیف العمر پارسی سے تقریباً مفت لی تھی۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ چلتی بھی تھی اور وہ بھی اِس میانہ روی کے ساتھ محلّے کے لونڈے ٹھلِوے جب اور جہاں چاہتے چلتی گاڑی میں کُود کر بیٹھ جاتے۔ آغا نے کبھی تعّرض نہیں کیا۔ کیونکہ اگلے چوراہے پر جب یہ دھکڑ دھکڑ کر کے دم توڑ دیتی تو یہی سواریاں دھکّے لگا لگا کر منزِل مقصُود تک پہنچا آتیں۔ اس صورت میں پٹرول کی بچت تو خیر تھی ہی، لیکن بڑا فائدہ یہ تھا کہ انجن بند ہو جانے کے سبب کار زیادہ تیز چلتی تھی۔ واقعی اس کار کا چلنا اور چلانا معجزۂ فن سے کم نہ تھا اس لیے کہ اس میں پٹرول سے زیادہ خون جلتا تھا۔ آغا دل ہی دِل میں کُڑھتے اور اپنے مصنُوعی دانت پِیس کر رہ جاتے۔ لیکن کوئی یہ کار ہدیتاً لینے کے لیے بھی رضامند نہ ہوتا۔ کئی مرتبہ تو ایسا ہُوا کہ تنگ آ کر آغا کار کو شہر سے دُور کِسی پیپل کے نیچے کھڑا کر کے راتوں رات بھاگ آئے۔ لیکن ہر مرتبہ پولیس نے کار سرکاری خرچ پر ٹھیل ٹھال کر آغا کے گھر بحفاظت تمام پُہنچا دی۔
غرضیکہ، اس کار کو علیٰحدہ کرنا اِتنا ہی دُشوار نِکلا جتنا اس کو رکھنا۔ پھر یہ بات بھی تھی کہ اِس سے بہت تاریخی حادثوں کی یادیں وابستہ تھیں جن میں آغا بے عزّتی سے بری ہُوئے تھے۔ انجام کار، ایک سُہانی صبح فورڈ کمپنی والوں نے اُن کو پیغام بھیجا کہ یہ کار ہمیں لوٹا دو۔ ہم اس کو پبلسٹی کے لیے اپنے قدیم ماڈلوں کے میوزیم میں رکھیں گے اور اس کے بدلے سالِ رواں کے ماڈل کی بڑی کار تمھیں پیش کریں گے۔ شہر کے ہر کافی ہاؤس میں آغا کی خوش نصیبی اور کمپنی کی فیاضی کے چرچے ہونے لگے۔ اور یہ چرچے اُس وقت ختم ہُوئے جب آغا نے اس پیش کش کو حقارت کے ساتھ مستردکر دیا۔
کہنے لگے “دو لُوں گا!”
کمپنی خاموش ہو گئی اور آغا مُدتوں اس کے مقامی کارندوں کی نا اہلی اور ناعاقبت اندیشی پر افسوس کرتے رہے۔ کہتے تھے “لالچی کہیں کے! پانچ سال بعد تین دینی پڑیں گی!دیکھ لینا!”
وہ خلوصِ نیّت سے اس دور کو کلجگ کہتے اور سمجھتے تھے۔ جہاں کوئی نئی چیز، کوئی نئی صُورت نظر پڑی اور اُنھوں نے کچ کچا کے آنکھیں بند کیں اور یادِ رفتگاں کے اتھاہ سمندر میں غڑاپ سے غوطہ لگایا۔ اور کبھی ایسا نہیں ہُوا کہ کندھے پر ایک آدھ لاش لادے برآمد نہ ہُوئے ہوں۔ کہیں کوئی بات بارِ خاطر ہُوئی اور اُنھوں نے “یادش بخیر’ کہہ کر بِیتے سمے اور بچھڑی ہُوئی صُورتوں کی تصویر کھینچ کے رکھ دی۔ ذرا کوئی امریکی طور طریق یا وضع قطع ناگوار گزری اور اُنھوں نے کولمبس کو گالیاں دینی شروع کیں۔ وہ فی الواقع محسوس کرتے کہ ان کے لڑکپن میں گنّے زیادہ میٹھے اور ملائم ہوا کرتے تھے۔ میرے سامنے بارہا اتنی سی بات منوانے کے لیے مرنے مارنے پر تُل گئے کہ اُن کے بچپنے میں چنے ہر گز اتنے سخت نہیں ہوتے تھے۔ کہتے تھے آپ نہ مانیں، یہ اور بات ہے، مگر ٹھوس حقیقت ہے کہ گزشتہ پندرہ بیس سال میں قطب مینار کی سیڑھیاں گھِسنے کی بجائے اور زیادہ اُونچی ہو گئی ہیں۔ اور اس کے ثبوت میں اپنے حالیہ سفر دہلی کا تجربہ ہانپ ہانپ کر بیان کرتے۔ چونکہ ہم میں کسی کے پاس پاسپورٹ تک نہ تھا، اس لیے اس منزل پر بحث کا پلّہ ہمیشہ اُن کے حق میں جھُک جاتا۔ من جملہ دیگر عقائد کی، اُن کا ایمان تھا کہ بکری کا گوشت اب اِتنا حلوان نہیں ہوتا جتنا ان کے وقتوں میں ہُوا کرتا تھا۔ ممکن ہے اس میں کچھ حقیقت بھی ہو مگر وہ ایک لمحے کو یہ سوچنے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس میں دانتوں کا قصُور یا آنتوں کا فتور بھی ہو سکتا ہے۔ وُہ ریشے دار گوشت کو قصائی کے بے ایمانی سے زیادہ بکری کی اپنی بد اعمالیوں سے منسُوب کرتے۔ چنانچہ بعض اوقات خلال کرتے کرتے اس زمانے کو یاد کر کے اُن کا گلا رندھ جاتا جب بکریاں اللہ میاں کی گائے ہُوا کرتی تھیں۔
ہم نے انھیں نشہ کرتے نہیں دیکھا۔ تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ میرے لڑکپن میں سرولی آم خربوزے کے برابر ہوتے ہیں۔ ہم نے کبھی اس کی تردید نہیں کی۔ اس لئے کہ ہم اپنے گئے گزرے زمانے میں روزانہ ایسے خربوزے بکثرت دیکھ رہے تھے جو واقعی آم کے برابر تھے! بات سرولی پرہی ختم ہو جاتی تو صبر آ جاتا، لیکن وہ تو یہاں تک کہتے تھے کہ اگلے وقتوں کے لوگ بھی غضب کے لمبے چوڑے ہوتے تھے۔ ثبوت کے طور پر اپنے تایا ابّا کی رسولی کے سائز کا حوالہ دیتے جو مقامی میڈیکل کالج نے اسپرٹ میں محفوظ کر رکھی تھی۔ کہتے تھے آپ صرف اِسی سے اُن کی صحّت کا اندازہ کر لیجیے۔ یہ سُن کر ہم سب ایک دُوسرے کا مُنہ دیکھنے لگتے، اس لیے کہ اوّل تو ہمارے بُزرگ اُن بُزرگوں کے مقابلے ابھی بچے ہی تھے۔ دوم، ہم سے کِسی کے بُزرگ کی رسولی ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی تھی۔
اس کلجگ کا اثر جہاں اور چیزوں، خصوصاً اشیائے خورد و نوش، پر پڑا، وہاں موسم بھی اس کے چنگل سے نہ بچ سکا۔ اوائل جنوری کی ایک سرد شام تھی۔ آغا نے ٹھنڈا سانس بھر کر کہا، کیا وقت آ لگا ہے! ورنہ بیس سال پہلے جنوری میں اس کڑاکے کی سردی نہیں پڑتی تھی کہ پنج وقتہ تیمّم کرنا پڑے۔ چگّی ڈاڑھی والے درویش نے سوال کیا، کہیں اس کی وجہ تو نہیں کہ تم اس زمانے میں عید کی نماز پڑھتے تھے؟ لیکن بہت کچھ بحث و تمحیص کے بعد یہ طے پایا کہ محکمہ موسمیات کے ریکارڈسے آغا کو قائل کیا جائے۔
آغا دونوں ہاتھ گھٹنوں میں دے کر بولے “صاحب!ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ بیس برس پہلے اِتنی کم سردی پڑتی تھی کہ ایک پتلی سی دُلائی میں پسینہ آنے لگتا تھا اور اب پانچ سیر رُوئی کے لحاف میں بھی سردی نہیں جاتی! کیا سمجھے؟”
وہ کُچھ اور دلائل بھی پیش کرنا چاہتے تھے لیکن اُن کی کٹکٹی بندھ گئی اور بحث ایک دفعہ پھر انہی کے حق میں ختم ہو گئی۔
قدیم نصابِ تعلیم کے وہ بے معترف و مدّاح تھے۔ اکثر کہتے کہ ہمارے بچپن میں کتابیں اتنی آسان ہوتی تھیں کہ بچّے، اُن کے والدین بھی سمجھ سکتے تھے۔ اسی رو میں اپنی یونیورسٹی کا ذکر بڑی للک سے کرتے اور کہتے کہ ہمارے وقتوں میں ممتحن اِتنے لائق ہوتے تھے کہ کوئی لڑکا فیل نہیں ہو سکتا تھا۔ قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلاتے کہ ہماری یونیورسٹی میں فیل ہونے کے لیے غیر معمُولی قابلیت درکار تھی۔ جس شہر میں یونیورسٹی واقع تھی، اسے وہ عرصے سے اُجڑا دیار کہنے کے عادی تھے۔ ایک دن میں نے آڑے ہاتھوں لیا۔ “آغا! خُدا سے ڈرو! وہ شہر تمھیں اُجاڑ دکھائی دیتا ہے؟ حالانکہ وہاں کی آبادی پانچ ہزار سے بڑھ کر ساڑھے تین لاکھ ہو گئی ہے!”
“مسلمان ہو؟”
“ہوں تو۔”
“دوزخ پر ایمان ہے؟”
“ہے۔”
“وہاں کی آبادی بھی تو روز بروز بڑھتی جا رہی ہے! کیا سمجھے؟”
اختر شیرانی کی ایک بڑی مشہور نظم ہے جس میں انھوں نے یارانِ وطن کی خیر و عافیت پُوچھنے کے بعد ، دیس سے آنے والے کی خاصی خبر لی ہے۔ اِس بھولے بھالے سوال نامے کے تیور صاف کہہ رہے ہیں کہ شاعر کو یقینِ واثق ہے کہ اُس کے پردیس سِدھارتے ہی نہ صرف دیس کی ریت رسم بلکہ موسم بھی بدل گیا ہو گا۔ اور ندی نالے اور تالاب سب ایک ایک کر کے سُوکھ گئے ہوں گے۔ آغا کو اپنے آبائی گاؤں چاکسُو (خُورد) سے بھی کُچھ اِسی نوع کی توقّعات وابستہ تھیں۔
چاکسُو (خورد) دراصل ایک قدیم گاؤں تھا جو چاکسُو کلاں سے چھوٹا تھا۔ یہاں لوگ اب تک ہوائی جہاز کو چیل گاڑی کے نام سے یاد کرتے تھے۔ لیکن آغا اپنے لعابِ ذہن سے اس کے گردا گرد یادوں کا ریشمی جالا بُنتے رہے، یہاں تک کہ اُس نے ایک تہ دار کوئے کی شکل اختیار کر لی جِسے چیر کر (آغا کا تو کیا ذکر) جمیع باشندگانِ چاکسُو باہر نہیں نِکل سکتے تھے۔ ادھر چند دنوں سے وہ ان تنگ و تاریک گلیوں کو یاد کر کے زار و قطار رو رہے تھے، جہاں بقول ان کے جوانی کھوئی تھی۔ حالانکہ ہم سب کو ان کی سوانح عُمری میں سوانح کم، اور عُمر زیادہ نظر آتی تھی لیکن جب اُن کے یادش بخیریا نے شدّت اختیار کی تو دوستوں میں یہ صلاح ٹھہری کہ ان کو دو تین مہینے کے لیے اسی گاؤں میں بھیج دیا جائے جس کی زمین اُن کو حافظے کی خرابی کے سبب چہارم آسمان دکھائی دیتی ہے۔
چنانچہ گزشتہ مارچ میں آغا ایک مدّت مدید (تیس سال) کے بعد اپنے گاؤں گئے۔ لیکن وہاں سے لوٹے تو کافی آزردہ تھے۔ انھیں اس بات سے رنج پہنچا کہ جہاں پہلے ایک جوہڑ تھا جس میں دن بھر بھینسیں اور ان کے مالکوں کے بچّے پڑے رہتے تھے، وہاں پر اب ایک پرائمری اسکول کھڑا تھا۔ اس میں انھیں صریحاً چاکسُو کلاں والوں کی شرارت معلوم ہوتی تھی۔ جُوں توُں ایک دن وہاں گزارا اور پہلی ٹرین سے اپنی پُرانی یونیورسٹی پہنچے۔ مگر وہاں سے بھی شاموں شام واپس آئے۔ بے حد مغموم و گرفتہ دل۔ انھیں یہ دیکھ کر بڑی مایوسی ہوئی کہ یونیورسٹی اب تک چل رہی ہے! ان جیسے حسّاس آدمی کے لیے بڑے دُکھ اور اچنبھے کی بات تھی کہ وہاں مارچ میں اب پھُول کِھلتے ہیں اور گلاب سُرخ اورسبزہ ہرا ہوتا ہے۔ دراصل ایک مثالی “اولڈ بوائے” کی طرح وہ اس وقت تک اس صحّت مند غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ ساری چونچالی اور تمام خوش دِلی اور خوش باشی ان کی نسل پر ختم ہو گئی۔
آغا کی عمر کا بھید نہیں کھلا۔ لیکن جن دِنوں میرا تعارف ہُوا، وُہ عمر کی اس کٹھن گھاٹی سے گزر رہے تھے جب جوان اُن کو بوڑھا جان کر کتراتے اور بوڑھے کل کا لونڈا سمجھ کر مُنہ نہیں لگاتے تھے۔ جن حضرات کو آغا اپنا ہم عمر بتاتے رہے، اِن میں سے اکثر اُن کو مُنہ در مُنہ چچا کہتے تھے۔ خیر، اُن کی عمر کچھ بھی ہو، مگر میرا خیال ہے کہ وہ اُن لوگوں میں سے تھے جو کبھی جوان نہیں ہوتے۔ جب کبھی وہ اپنی جوانی کے قصّے سنانے بیٹھتے تو نوجوان ان کو یکسر فرضی سمجھتے۔ وہ غلطی پر تھے۔ کیونکہ قصّے ہی نہیں، ان کی ساری جوانی قطعی فرضی تھی۔ ویسے یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ اس لیے کہ بعض اشخاص عمر کی کِسی نہ کسی منزل کو پھلانگ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر شیخ سعدی کے متعلق یہ باور کرنے کو جی نہیں چاہتا کہ وہ کبھی بچّہ رہے ہوں گے۔ حالی جوان ہونے سے پیشتر بُڑھا گئے۔ مہدی الافادی جذباتی اعتبارسے، ادھیڑ پیدا ہوئے اور ادھیڑ مرے۔ شبلی نے عمرِ طبیعی کے خلاف جہاد کر کے ثابت کر دیا کہ عشق عطیّہ قدرت ہے۔ پیر و جواں کی قید نہیں۔
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
اور اختر شیرانی جب تک جئے دائمی نوجوانی میں مبتلا رہے اور آخر اِسی میں انتقال کیا۔ اِس سے اختر شیرانی کی تنقیض یا آغا کی مذّمت مقصُود نہیں کہ میرے کانوں میں آج بھی آغا کے وہ الفاظ گونج رہے ہیں جو انھوں نے ٹیگور پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہے تھے “برا مانو یا بھلا۔ لیکن جوان مولوی اور بوڑھے شاعر پر اپنا دِل تو نہیں ٹھکتا۔ کیا سمجھے؟”
اُن کی شادی کے متعلق اتنی ہی روایتیں تھیں جتنے ان کے دوست! بعضوں کا کہنا تھا کہ بی۔ اے کے نتیجے سے اس قدر بد دل ہُوئے کہ خود کشی کی ٹھان لی۔ بوڑھے والدین نے سمجھایا کہ بیٹا خود کشی نہ کرو، شادی کر لو۔ چنانچہ شادی ہو گئی۔ مگر ابھی سہرے کے پھُول بھی پوری طرح نہ مُرجھائے ہوں گے کہ یہ فکر لاحق ہو گئی کہ بچپن انھیں اسیر پنجہ عہد شباب کر کے کہاں چلا گیا اور وہ اپنی آزادی کے ایّام کو بے طرح یاد کرنے لگے۔ حتّیٰ کہ اُس نیک بخت کو بھی رحم آ گیا اور وہ ہمیشہ کے لیے اپنے میکے چلی گئی۔
اس سے مہر بخشوانے کے ٹھیک پندرہ سال بعد ایک مُسِن خاتون کو محض اس بِنا پر حبالہ نکاح میں لائے کہ پنتیس سال اور تین شوہر قبل موصُوفہ نے چاکسو میں اُن کے ساتھ اماوس کی رات میں آنکھ مچولی کھیلتے وقت چٹکی لی تھی۔ جس کا نِیل ان کے حافظے میں جُوں کا تُوں محفوظ تھا۔ لیکن آغا اپنی عادت سے مجبُور تھے۔ اس کے سامنے اپنی پہلی بیوی کی اٹھتے بیٹھتے اس قدر تعریف کی کہ اس نے بہت جلد طلاق لے لی۔ اتنی جلد کہ ایک دِن انگلیوں پرحساب لگایا تو بچاری کی ازدواجی زندگی، عِدّت کی میعاد سے بھی مختصر نکلی! آغا ہر سال نہایت پابندی اور دھُوم دھام سے دونوں طلاقوں کی سالگرہ منایا کرتے تھے۔ پہلی طلاق کی سلور جوبلی میں راقم الحروف کو بھی شرکت کا اِتفاق ہُوا۔
دوسری خانہ بربادی کے بعد شادی نہیں کی، اگرچہ نظر میں آخری دم تک سہرے کے پھُول کِھلتے اور مہکتے رہے۔
یُوں ترنگ میں ہوں تو انھیں ہر عاقل و بالغ خاتون میں اپنی اہلیہ بننے کی صلاحیت نظر آتی تھی۔ ایسے نازک و نایاب لمحات میں وہ کتابوں کی الماری سے بیئر پینے کا ایک گلاس نکالتے جو ایک یادگار نمائش سے دُودھ پینے کے لیے خریدا تھا۔ اب اس میں سکنجبین بھرکے جُرعہ جُرعہ حلق میں اُنڈیلتے رہتے اور ماضی کے نشہ سے سرشار ہو کر خُوب بہکتے۔ اپنے آپ پر سنگین تہمتیں لگاتے اور عورت ذات کو نقصان پُہنچانے کے ضمن میں ٥٥ سالہ منصوبوں کا اعلان کرتے جاتے۔ پھر جیسے جیسے عُمر اور نا تجربہ کاری بڑھتی گئی وہ ہر خاموش خاتون کو نیم رضا مند سمجھنے لگے۔ نہ جانے کیوں اور کیسے انھیں یہ اندیشہ ہو چلا تھا کہ حوّا کی ساری نسل انہی کی گھات میں بیٹھی ہے۔ مگر کسی اللہ کی بندی کی ہمّت نہیں پڑتی کہ اُن کی پُر غرور گردن میں گھنٹی باندھ دے۔ لیکن سوائے آغا کے سب جانتے تھے کہ وہ صنفِ نازک کے حضُور ہمیشہ سر تا پا ! بن کر گئے جب کہ انھیں مجسّم ؟ ہونا چاہیے تھا۔ ایک دن چُگی ڈاڑھی والے درویش نے دبی زبان سے کہا کہ آغا تم دہلیز ہی چُومتے رہ گئے۔ دستک دینے کی ہمّت تمھیں کبھی نہیں ہُوئی۔ ہنسے۔ کہنے لگے، میاں! ہم تو درویش ہیں۔ اِک گھونٹ لیا، دِل شاد کیا، خوش بخت ہُوئے اور چل نِکلے۔ ملنگ کے دِل میں سبیل پر قبضہ کرنے کی خواہش نہیں ہوتی۔
سینما دیکھنے کے شائق تھے۔ اگرچہ اس کے مواقع بہت کم ملتے تھے۔ صرف وہ تصویریں چاؤ سے دیکھتے جِن میں اُن کے زمانے کی محبوب ایکٹرسیں ہیروئن کا رول ادا کر رہی ہوں۔ مگر دِقّت یہ تھی کہ ان کے چہرے یا تو اب اسکرین پر نظر ہی نہیں آتے تھے، یا پھر ضرورت سے زیادہ نظر آ جاتے تھے۔ اُن میں سے جو حیات تھیں، اور چلنے پھرنے کے قابل، وہ اب ہیروئن کی نانی اور ساس کا رول نہایت خوش اسلوبی سے ادا کر رہی تھیں۔ جس سے ظاہر ہے کہ آغا کو کیا دِل چسپی ہو سکتی ہے۔ البتہ چھٹے چھماہے “پکار” یا “ماتا ہری” قسم کی فِلم آ جاتی تو آغا کے دِل کا کنول کھِل جاتا۔ چُگی ڈاڑھی والے درویش کا بیان ہے کہ آغا گریٹا گاربو پر محض اِس لیے فریفتہ تھے کہ وہ انہی کی عُمروں کی تھی۔ ہرچند اس قبیل کی فلمیں دیکھ کر ہر تندرست آدمی کو اپنی سماعت اور بصارت پر شبہ ہونے لگتا۔ لیکن آغا کو ان کے مناظر اور مکالمے ازبر ہو چکے تھے اور وہ اس معاملے میں، ہماری آپ کی طرح، اپنے حواس خمسہ کے چنداں محتاج نہ تھے۔ یہ باسی فلمیں دیکھتے وقت انھیں ایک باڑھ پر آئے ہوئے بدن کی جانی پہچانی تیز اور تُرش مہک آتی جو اپنے ہی وُجود کے کسی گوشے سے پھُوٹتی ہُوئی محسوس ہوتی تھی۔
باسی پھُول میں جیسے خوشبو، پھُول پہننے والے کی
ان کے مِٹتے ہُوئے نقوش میں اور ان مقامات پر جہاں پچیس سال پہلے دِل بُری طرح دھڑکا تھا، انھیں ایک بچھڑے ہُوئے ہمزاد کا عکس دکھائی دیتا جو وقت کے اُس پار انھیں بُلا رہا تھا۔
سب جانتے تھے کہ آغا کی زندگی بہت جلد ایک خاص نقطے پر پُہنچ کر ساکن ہو گئی۔ جیسے گراموفون کی سُوئی کسی میٹھے بول پر اٹک جائے۔ لیکن کم احباب کو علم ہو گا کہ آغا اپنے ذہنی ہکلے پن سے بے خبر نہ تھے۔ اکثر کہا کرتے کہ جس وقت میرے ہم سن کبّڈی میں وقت ضائع کرتے ہوتے، تومیں اکیلا جوہڑ کے کنارے بیٹھا اپنی یاد داشت سے ریت اور گارے کا لال قلعہ بناتا جسے میں نے پہلی بار اُس زمانے میں دیکھا تھا جب حلوا سوہن کھاتے ہُوئے پہلا دُودھ کا دانت ٹوٹا تھا۔ بڑے ہو کر آغا نے شاہ جہانی شغل (ہمارا اشارہ حلوا سوہن سے دانت اکھاڑنے کی طرف نہیں، تعمیر قلعہ جات کی طرف ہے) ترک نہیں کیا۔ بس ذرا ترمیم کر لی۔ اب بھی وہ یادوں کے قلعے بناتے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب بہتر مسالہ لگاتے اور ریت کے بجائے اصلی سنگِ مرمر وافر مقدار میں استعمال کرتے۔ بلکہ جہاں صرف ایک سِل کی گنجائش ہوتی، وہاں دو لگاتے۔ نیز بُرج اور مینار نقشے کے مُطابق بے جوڑ ہاتھی دانت کے بناتے۔ مدّت العمر شیشے کی فصیلوں پر اپنی منجیق نصب کر کے وہ بالشتیوں کی دُنیا پر پتھراؤ کرتے رہے۔ اِن قلعوں میں غنیم کے داخل ہونے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ بلکہ اپنے نکلنے کا بھی کوئی راستہ نہیں رکھا تھا۔
یہ نہیں کہ انھیں اس کا احساس نہ ہو۔ اپنا حال ان پر بخوبی روشن تھا۔ اس کا علم مجھے یُوں ہوا کہ ایک دفعہ باتوں ہی باتوں میں یہ بحث چل نکلی کہ ماضی سے لگاؤ ضعف پیدا کرتا ہے۔ پہلے درویش (جن کا روپیہ ان کی جوانی سے پہلے جواب دے گیا) نے تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ جتنا وقت اور روپیہ بچّوں کو “مُسلمانوں کے سائینس پر احسانات ” رٹانے میں صرف کیا جاتا ہے، اس کا دسواں حصّہ بھی بچوں کو سائینس پڑھانے میں صرف کیا جائے تو مسلمانوں پر بڑا احسان ہو گا۔ غور کیجئے تو امریکہ کی ترقی کا سبب یہی ہے کہ اس کا کوئی ماضی نہیں۔ چُگی ڈاڑھی والا درویش گویا ہُوا “قدیم داستانوں میں بار بار ایسے آسیبی صحرا کا ذکر آتا ہے، جہاں آدمی پیچھے مڑ کر دیکھ لے تو پتّھر کا ہو جائے۔ یہ صحرا ہمارے اپنے من کے اندر ہے، باہر نہیں!” پہلے درویش نے بپھر کر دیو مالا سے منطقی نتیجہ نکالتے ہُوئے کہا۔ “اپنے ماضی سے شیفتگی رکھنے والوں کی مثال ایک ایسی مخلوق کی سی ہے جِس کی آنکھیں گُدّی کے پیچھے لگی ہُوئی ہوں۔ چھان بین کیجئے تو بات بات پر یاد ایّامیکہ، اور ’یادش بخیر‘ کی ہانک لگانے والے وہی نکلیں گے جن کا مستقبل نہیں۔”
آغا نے یک لخت ماضی کے مرغزاروں سے سرنکال کر فائر کیا۔ “یادش بخیر کی بھی ایک ہی رہی۔ اپنا تو عقیدہ ہے کہ جسے ماضی یاد نہیں آتا اس کی زندگی میں شاید کبھی کچھ ہُوا ہی نہیں۔ لیکن جو اپنے ماضی کو یاد ہی نہیں کرنا چاہتا وُہ یقیناً لوفر رہا ہو گا۔ کیا سمجھے؟”
مُدتیں گزریں۔ ٹھیک یاد نہیں بحث کِن دِل آزار مراحل سے گزرتی اس تجریدی نکتے پر آ پہنچی کہ ماضی ہی اٹل حقیقت ہے۔ اس لیے کہ ایک نہ ایک دن یہ اژدہا حال اور مستقبل دونوں کو نِگل جائے گا۔ دیکھا جائے تو ہر لمحہ اور ہر لحظہ، ہر آن اور ہر پل ماضی کی جیت ہو رہی ہے۔ آنے والا کل آج میں اور آج گزرے ہُوئے کل میں بدل جاتا ہے۔ اس پر پہلے درویش نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ ایشیا کا حال اس شخص جیسا ہے جس نے
گئے جنم کی تمنّا میں خود کشی کر لی
مشرق نے کبھی پل کے رُوپ سُروپ سے پیار کرنا نہیں سیکھا۔ جینا ہے تو پِھسلتے سرسراتے لمحے کو دانتوں سے پکڑو۔ گزرتے لمحے کو بے جھپک چھاتی سے لگاؤ، اس کی نس نس میں ماضی کا نیم گرم خُون دوڑ رہا ہے۔ اسی کی جیتی جیتی کوکھ سے مستقبل جنم لے گا۔ اور اپنی چھل بل دکھا کر آخر اسی طرف لوٹے گا۔
یہاں چُگی ڈاڑھی والے درویش نے اچانک بریک لگایا “آپ کے ننّھے مُنّے لمحے کے نجیب الطرفین ہونے میں کیا کلام ہے۔ لیکن بیتی ہُوئی گھڑیوں کی آرزو کرنا ایسا ہی ہے جیسے ٹوتھ پیسٹ کو واپس ٹیوب میں گھُسانا! لاکھ یہ دنیا ظلمت کدہ سہی۔ لیکن کیا اچّھا ہو کہ ہم ماضی کے دھُندلے خاکوں میں چیختے چنگھاڑتے رنگ بھرنے کی بجائے حال کو روشن کرنا سیکھیں۔”
آغا نے ایک بار پھر تُرپ پھینکا۔ “بھئی ہم تو باورچی خانے پر سفیدی کرنے کے قائل نہیں!”
بات یہ ہے کہ بہت کم لوگ جی داری سے ادھیڑ پن کا مقابلہ کر پاتے ہیں۔ غبی ہوں تو اس کے وجود سے ہی منحرف۔ اور ذرا ذہین ہوں تو پہلا سفید بال نظر پڑتے ہی اپنی کایا کو ماضی کی اندھی سُرنگ کے خنک اندھیروں میں ٹھنڈا ہونے کے لیے ڈال دیتے ہیں۔ اور وہاں سے نکلنے کا نام نہیں لیتے جب تک کہ وقت ان کے سروں پر برف کے گالے نہ بکھیر دی۔ بال سفید کرنے کے لیے اگرچہ کسی تیاگ اور تپسیا کی ضرورت نہیں۔ تاہم ایک رچی بسی با وقار سُپردگی کے ساتھ بوڑھے ہونے کا فن اور ایک آن کے ساتھ پسپا ہونے کے پینترے بڑی مشکل سے آتے ہیں۔ اور ایک بڑھاپے پر ہی موقوف نہیں۔ حُسن اور جوانی سے بہرہ یاب ہونے کا سلیقہ بھی کچھ کچھ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب واہ ایک گہری آہ اور آہ ایک لمبی کراہ میں بدل چکی ہوتی ہے۔
قدرت کے کھیل نرالے ہیں۔ جب وہ دانت دیتی ہے تو چنے نہیں ہوتے۔ اور جب چنے دینے پر آتی ہے تو دانت ندارد۔ آغا کا المیہ یہ تھا کہ جب قُدرت نے ان کو دانت اور چنے دونوں بخشے تو انھوں نے دانتوں کو استعمال نہیں کیا۔ لیکن جب دانت عدم استعمال سے کمزور ہو کر ایک ایک کر کے گِر گئے تو انھیں پہلی دفعہ چنوں کے سوندھے وجود کا احساس ہُوا۔ پہلے تو بہت سٹ پٹائے۔ پھر دانتوں کو یاد کر کے خُود روتے اور دُنیا کو رُلاتے رہے۔ عبارت آرائی برطرف، امر واقعہ یہ ہے کہ آغا نے بچپن اور جوانی میں بجز شطرنج کے کوئی کھیل نہیں کھیلا۔ حد یہ کہ جُوتے کے تسمے بھی کھڑے کھڑے اپنے نوکروں سے بندھوائے۔ مگر جُونہی پچپن کے پیٹے میں آئے، اس بات سے بڑے رنجیدہ رہنے لگے کہ اب ہم تین قِسطوں میں بھی ایک بیٹھک نہیں لگا سکتے۔ اس میں وہ قدرے غلو سے کام لیتے تھے۔ کیونکہ ہم نے بچشمِ خود دیکھا کہ نہ صرف ایک ہی ہلّے میں اڑ اڑا کے بیٹھ جاتے، بلکہ اکثر و بیشتر بیٹھے ہی رہ جاتے۔ اِس لحاظ سے چُگی ڈاڑھی والے درویش بھی کچھ کم نہ تھے۔ زندگی بھر کیرم کھیلا اور جاسوسی ناول پڑھے۔ اب اِن حالوں کو پہنچ گئے تھے کہ اپنی سال گرہ کے کیک کی موم بتیاں تک پھُونک مار کر نہیں بُجھا سکتے تھے۔ لہٰذا ان کے نواسے کو پنکھا جھل کر بُجھانا پڑتی تھیں۔ اس کے علاوہ نظر اتنی موٹی ہو گئی تھی کہ عورتوں نے ان سے پردہ کرنا چھوڑ دیا۔ عُمر کا اندازہ بس اس سے کر لیجئے کہ تین مصنوعی دانت تک ٹوٹ چکے تھے۔
بایں سامانِ عاقبت، شکلا جی اور آغا کے سامنے اکثر رُباعی کے پردے میں اپنی ایک آرزو کا برملا اظہار کرتے جِسے کم و بیش سے اپنا خُون پلا پلا کر پال رہے تھے۔
خلاصہ اس دائمی حسرت کا یہ تھا کہ ننانوے سال کی عُمر پائیں اور مرنے سے پہلے ایک۔۔ بس ایک بار۔۔مجرمانہ دست درازی میں ماخوذ ہوں۔ ایک دفعہ زکام میں مُبتلا تھے۔ مجھ سے فرمائش کی “میاں!میری رُباعی ترنّم سے پڑھ کرسُناؤ۔” میں نے تامّل کیا، فرمایا “پڑھو بھی۔ شرع اور شاعری میں کاہے کی شرم!”
گو آغا تمام عمر رہین ستم ہائے روزگار رہے لیکن چاکسو کی یاد سے ایک لحظہ غافل نہیں رہے۔ چنانچہ ان کی میّت آخری وصیّت کے مطابق سات سو میل دُور چاکسو خورد لے جائی گئی۔ اور چاکسو کلاں کی جانب پاؤں کر کے اُسے قبر میں اُتارا گیا۔
لاریب وہ جنتی تھے۔ کیونکہ وہ کسی بُرے میں نہیں تھے۔ اُنھوں نے اپنی ذات کے علاوہ کبھی کسی کو گزند نہیں پہنچایا۔ ان کے جنتّی ہونے میں یُوں بھی شبہ نہیں کہ جنت واحد ایسی جگہ ہے جس کا حال اور مستقبل اس کے ماضی سے بہتر نہیں ہو سکتا!
لیکن نہ جانے کیوں میرا دِل گواہی دیتا ہے کہ وہ جنّت میں بھی خوش نہیں ہوں گے اور یادش بخیر کہہ کر جنتّیوں کو اسی جہان گذراں کی داستان پاستاں سُنا سُنا کر للچاتے ہوں گے جِسے جیتے جی دوزخ سمجھتے رہے۔
٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Recommended Salam
Classic Letters Of Ghalib To Nawab Mir