اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

ان کے لبوں پر آ کے مری بات رہ گئی

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

ان کے لبوں پر آ کے مری بات رہ گئی
انگڑائی لے کے موج خرابات رہ گئی

پھر رخ بدل دیا غم ہستی نے دہر کا
پھر زیر بحث آ کے تری ذات رہ گئی

ہونے کو ان سے سینکڑوں باتیں ہوئیں مگر
جس بات کا گلہ تھا وہی بات رہ گئی

باقیؔ کسی سے ان کی شکایت نہ کر سکے
کچھ یوں بدل کے صورت حالات رہ گئی

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button