جب قربانیوں کا صلہ اجنبیت بن جائے
ایک اردو تحریر از زاہد خان
انسان کی زندگی میں سب سے بڑی جدوجہد اپنے پیاروں کے لیے ہوتی ہے۔ کوئی باپ دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو، اس کے دل کی دھڑکنیں اپنے بچوں کے ساتھ جڑی رہتی ہیں۔ مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ وقت اور فاصلے بعض اوقات وہ خلیج پیدا کر دیتے ہیں، جسے دولت کے انبار بھی پُر نہیں کر پاتے۔
یہ کالم ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو غربت کے بوجھ تلے دبا، اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر دیارِ غیر کا رخ کرتا ہے۔ وہ بیس برس پردیس کی سختیوں میں گزار دیتا ہے۔ اس کی جوانی مشقت میں بیتتی ہے، عید اور خوشیاں تنہائی میں کٹتی ہیں۔ وہ اپنے آنسو ضبط کر کے، اپنے ارمان قربان کر کے صرف ایک خواب جیتا ہے کہ ایک دن لوٹوں گا تو اپنی اولاد کو خوشحال اور باوقار زندگی گزارتے دیکھوں گا۔
مگر جب وہ بیس سال بعد واپس آتا ہے تو اس کے خواب بکھرنے لگتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ بچے بڑے ہو چکے ہیں، ان کی اپنی اپنی زندگیاں ہیں۔ وہ باپ، جس نے ان کے مستقبل کے لیے سب کچھ قربان کیا، آج ان کے لیے ایک اجنبی ہے۔ جب وہ ان کی غلطیوں پر توجہ دلاتا ہے تو اولاد اسے پرانی سوچ کا طعنہ دیتی ہے۔ بیوی بھی اکتاہٹ کے ساتھ کہتی ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بار بار کیوں روک ٹوک کرتے ہو۔
یہ وہ لمحہ ہے جو کسی باپ کے دل کو چھید کر رکھ دیتا ہے۔ وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ میں نے کیا پایا؟ وہ لمحے جو اپنی اولاد کی مسکراہٹ کے خواب میں قربان کیے، آج وہی اولاد اس کی موجودگی کو بوجھ سمجھتی ہے۔ وہ گھر جسے بسانے کے لیے عمر کی قید کاٹی، آج اسی گھر میں وہ خود اجنبی بن گیا ہے۔
یہ کہانی محض ایک فرد کی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے ہزاروں پردیسیوں کی داستان ہے۔ وہ لوگ جو اپنی ہڈیوں کا گودا نچوڑ کر کماتے ہیں، مگر جب لوٹتے ہیں تو اپنی ہی دنیا میں پرائے ٹھہرتے ہیں۔ یہ لمحہ صرف ان کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا:
کیا واقعی آسائشیں والدین کی موجودگی اور محبت کا نعم البدل ہیں؟ کیا دولت، قربانی اور رشتوں کے بیچ وہ خلیج پیدا کر دیتی ہے جسے پھر کبھی پُر نہیں کیا جا سکتا؟ اور اگر ایسا ہے، تو یہ کس کا نقصان ہے — والدین کا یا ہماری پوری نسل کا؟
"پردیس کی کمائی اولاد کو آسائش تو دے سکتی ہے، مگر والدین کی قربانی اور محبت کا بدل کبھی فراہم نہیں کر سکتی۔”
آپ کے خیال میں، ایک والد کی اصل کامیابی کیا ہے — اپنی اولاد کے لیے دولت جمع کرنا یا ان کے ساتھ وقت گزار کر اپنی موجودگی کا احساس دلانا؟
اپنی رائے ضرور بتائیں۔
زاہد خان








