اخلاص کے ساتھ انفاق — آخرت کا محفوظ سرمایہ
اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو انسان کے ہر عمل کی نیت کو اس کی اصل روح قرار دیتا ہے۔ خصوصاً صدقہ، خیرات، زکوٰۃ، مالِ امام، نذر و نیاز اور دیگر مالی عبادات میں اگر نیت خالص نہ ہو تو یہ اعمال اپنی روح کھو دیتے ہیں اور محض ظاہری حرکات بن کر رہ جاتے ہیں۔
انفاق فی سبیل اللہ — حقیقت کیا ہے؟
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿مَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ﴾
(سورۂ بقرہ: 261)
"جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اُگیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جو کچھ انسان خدا کی راہ میں دیتا ہے، وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ کئی گنا بڑھا کر لوٹایا جاتا ہے۔ درحقیقت صدقہ و خیرات کسی پر احسان نہیں بلکہ اپنے ہی آخرتی اکاؤنٹ میں جمع پونجی ہے۔
نیت کی اہمیت
رسولِ اکرم ﷺ کا مشہور فرمان ہے:
«إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ»
(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے)
اگر کوئی شخص صدقہ و خیرات اس نیت سے دے کہ لوگ اسے بڑا سمجھیں، اس کی تعریف کریں، یا کسی خاص گروہ، شخصیت یا ادارے کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھائے، تو ایسا عمل اللہ کی بارگاہ میں قابلِ قبول نہیں ہوتا۔
قرآن کریم اس بارے میں سخت تنبیہ کرتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ﴾
(سورۂ بقرہ: 264)
"اے ایمان والو! احسان جتا کر اور اذیت دے کر اپنے صدقات کو باطل نہ کرو۔”
ریاکاری — عمل کی تباہی
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
«الْعَمَلُ كُلُّهُ هَبَاءٌ إِلَّا مَا كَانَ خَالِصًا لِلَّهِ»
"تمام اعمال بے وقعت ہیں سوائے اس کے جو خالصتاً اللہ کے لیے ہوں۔”
ریا، دکھاوا، پارٹی بازی، صرف عمارتوں یا ظاہری تشکیلات پر خرچ کرنا، یا کسی سرمایہ دار نما عالم یا صاحبِ منصب شخصیت کو خوش کرنے کے لیے دینا—یہ سب وہ امور ہیں جو عمل کو کھوکھلا کر دیتے ہیں اور اس میں نہ خیر رہتی ہے نہ برکت۔
مستحق کی تلاش اور خاموش انفاق
قرآنِ مجید ان لوگوں کی تعریف کرتا ہے جو خاموشی سے اور خلوص کے ساتھ دیتے ہیں:
﴿إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ﴾
(سورۂ بقرہ: 271)
اور امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
«صَدَقَةُ السِّرِّ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ»
"چھپا کر دیا گیا صدقہ پروردگار کے غضب کو بجھا دیتا ہے۔”
نتیجہ اور دعا
لہٰذا ہر مسلمان اور مومن پر لازم ہے کہ جہاں بھی مستحق کو دیکھے، خالصتاً فی سبیل اللہ دے۔ یہ یقین رکھتے ہوئے کہ جو کچھ وہ دیتا ہے، وہ مرنے کے بعد اسے ضرور واپس ملے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے اخلاص کو دیکھ کر بے حساب اپنے فضل و کرم سے نوازے گا۔
آخر میں ہم بارگاہِ خداوندی میں دعا کرتے ہیں:
اے اللہ! ہمیں نیک نیتی، اخلاصِ عمل اور خالص بندگی عطا فرما، اور ہمیں اپنی حیثیت کے مطابق دینِ محمد و آلِ محمدؑ کی خدمت کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔
محمد حسین بہشتی








