اردو غزلیاتشعر و شاعریعدیم ہاشمی

میں جی رہا ہوں صرف ترے اعتبار تک

عدیم ہاشمی کی اردو غزل

میں جی رہا ہوں صرف ترے اعتبار تک
اب آ گئی ہے بات ترے اختیار تک

کس نے کہا تھا اتنی محبت کے واسطے
تُو نے تو چھُو لیا ہے دلِ بے قرار تک

تُو آج آ، کہ موت کے بعد آ، یہ تُجھ پہ ہے
آنکھیں مری کھلی ہیں ترے انتظار تک

منسوب ہو گئے تری آنکھوں کے کیف سے
چڑھتے نشے سے لے کے اُترتے خمار تک

رخصت کے بعد کا بھی سماں ختم ہو چکا
باقی نہیں ہے اب تو ہوا میں غبار تک

تیری تمام وعدہ خلافی کے باوجود
میں نے تو کر لیا ہے ترا اعتبار تک

وعدے جو ٹوٹتے ہیں، وہ قسمت میں ہیں عدیم
لکھے ہوئے ہیں بخت میں قول و قرار تک

عدیم ہاشمی 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button