اردو غزلیاتشعر و شاعرینذیر قیصر

کیسا تارا ٹوٹا مجھ میں

نذیر قیصرکی ایک اردو غزل

کیسا تارا ٹوٹا مجھ میں
جھانک رہی ہے دنیا مجھ میں

کوئی پرانا شہر ہے جس کا
کھلتا ہے دروازہ مجھ میں

دیا جلا کے چھوڑ گیا ہے
کوئی اپنا سایا مجھ میں

بند ہوئی جاتی ہیں آنکھیں
کیسا منظر جاگا مجھ میں

آوازیں دیتا ہے مجھ کو
کوئی میرؔ کے جیسا مجھ میں

کوئی مجھ کو ڈھونڈھنے والا
بھول گیا ہے رستہ مجھ میں

خالی تھی گلدان میں ٹہنی
کھلا ہوا تھا شعلہ مجھ میں

برس رہی تھی بارش باہر
اور وہ بھیگ رہا تھا مجھ میں

اڑتا رہتا ہے راتوں کو
قیصرکوئی پرندہ مجھ میں

نذیر قیصر

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button