آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریشہباز خواجہ
پا بہ زنجیر، کبھی خاک بہ سر کھینچتے ہیں
شہباز خواجہ کی ایک اردو غزل
پا بہ زنجیر، کبھی خاک بہ سر کھینچتے ہیں
شب کے ماتھے پہ ہمی نقشِ سحر کھینچتے ہیں
جو نہیں مانتے افلاک کی گردش کا سبب
اُن کے اصرار پہ ہم بارِ دگر کھینچتے ہیں
سبز ہوتے ہوئے پیڑوں پہ بڑی حیرت ہے
کس طرح خاک سے یہ برگ و ثمر کھینچتے ہیں
ایک دھاگا ہے تعلق کا، ہمیں کھینچتا ہے
ٹوٹ سکتا ہے، اُسے ہم بھی اگر کھینچتے ہیں
وہ چلا جائے جسے شوقِ پذیرائی ہے
ہم نہیں جاتے، ہمیں لوگ جدھر کھینچتے ہیں
شہباز خواجہ








