غم مجھے کرنے لگے تسخیر اب تیرے بغیر
زندگی لگنے لگی دل گیر اب تیرے بغیر
ہجر کی اس دھوپ نے تو رنگ کر ڈالے خراب
ہو گئی بے رنگ ہر تصویر اب تیرے بغیر
آنکھ کی دہلیز پر رکھے ہیں سارے خواب دیکھ
مل سکے گی کب کہاں تعبیر اب تیرے بغیر
راہ کیا بدلی ہے تو نے انگلیاں اٹھنے لگیں
ہر نظر ہونے لگی شمشیر اب تیرے بغیر
مکڑیاں ہی مکڑیاں ہیں سوچ کی دیوار پر
لڑ رہی ہے مجھ سے ہر تحریر اب تیرے بغیر
ہے ادھوری اس لیے یارا محبت کی کتاب
ہو نہیں سکتی بیاں تفسیر اب تیرے بغیر
دیکھ لے اک بار اپنی شاز کو کیا حال ہے
ہو رہے ہیں کچھ ترازو تیر اب تیرے بغیر
شاز ملک








