- Advertisement -

ہائی وے مَین اور آبشاروں کی ملکہ

اردو نظم از تجدید قیصر

ہائی وے مَین اور آبشاروں کی ملکہ
(Highway man aur Aabshaaron Kee Malika)

ذرا اپنی رویال کیرج کے پردے گراؤ
تمہاری جھلک دیکھ لی ہے مگر
یہ تو کافی نہیں
میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں
کہ نزدیک سے
اور گہرائی میں
کون سے چاک پر تم بنائی گئی
کس خدا نے تراشہ تمہیں
کون ہو تم؟
کوئی کاف کی شاہ ذادی
حسیں وادیوں کی گلہری
کہ پھر رقص کرتی ہوئی مورنی
جل پری کی سہیلی
چٹانوں سے پھوٹی ہوئی آبشاروں کی ملکہ
حقیقت ہو یا پھر
کوئی خواب ہو تم
صحیفوں سے بہتی ہوئی آگ ہو تم

تجدید قیصر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
اردو نظم از تجدید قیصر