- Advertisement -

ناروا کہیے ناسزا کہیے

داغ دہلوی کی اردو غزل

ناروا کہیے ناسزا کہیے
کہیے کہیے مجھے برا کہیے
تجھ کو بد عہد و بے وفا کہیے
ایسے جھوٹے کو اور کیا کہیے
پھر نہ رکیے جو مدّعا کہیے
ایک کے بعد دوسرا کہیے
آپ اب میرا منہ نہ کھلوائیں
یہ نہ کہیے کہ مدّعا کہیے
وہ مجھے قتل کر کے کہتے ہیں
مانتا ہی نہ تھا یہ کیا کہیے
دل میں رکھنے کی بات ہے غمِ عشق
اس کو ہرگز نہ برملا کہیے
تجھ کو اچھا کہا ہے کس کس نے
کہنے والوں کو اور کیا کہیے
وہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھی
حالِ دل سب سے جابجا کہیے
مجھ کو کہیے برا نہ غیر کے ساتھ
جو ہو کہنا جدا جدا کہیے
انتہا عشق کی خدا جانے
دمِ آخر کو ابتدا کہیے
میرے مطلب سے کیا غرض مطلب
آپ اپنا تو مدّعا کہیے
صبر فرقت میں آ ہی جاتا ہے
پر اسے دیر آشنا کہیے
آ گئی آپ کو مسیحائی
مرنے والوں کو مرحبا کہیے
آپ کا خیر خواہ میرے سوا
ہے کوئی اور دوسرا کہیے
ہاتھ رکھ کر وہ اپنے کانوں پر
مجھ سے کہتے ہیں ماجرا کہیے
ہوش جاتے رہے رقیبوں کے
داغ کو اور با وفا کہیے

داغ دہلوی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل