آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

نفرت سے بھرا سوشل میڈیا

عمران، مودی اور ٹرمپ کی سیاست

بنی اسرائیل نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک انوکھی سزا دی، فاقتلوا انفسکم، ”اپنے کو آپس میں قتل کرو“ تفسیر طبری میں ہے کہ ”وہ اٹھے، اپنے ہاتھ میں خنجر لیے، ان پر ایک بڑا اندھیرا چھا گیا تو انہوں نے ایک دوسرے کو مارنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ ان میں سے ستر ہزار مارے گئے۔“ ایک روایت میں ہے کہ قاتل و مقتول دونوں گروہوں میں سے جو بھی مارا گیا وہ شہید ہے۔

بائبل میں اس واقعہ کا ذکر اس طرح آیا ہے۔ ”جب موسیٰؑ نے دیکھا کہ لوگ بے قابو ہو گئے کیونکہ ہارونؑ نے ان کو بے لگام چھوڑ کر ان کو ان کے دشمنوں کے درمیان ذلیل کر دیا اور اس نے کہا اسرائیل کا خدا فرماتا ہے کہ تم اپنی اپنی ران سے تلوار لٹکا کر پھاٹک پھاٹک گھوم کر سارے لشکر گاہ میں اپنے اپنے بھائیوں اور اپنے اپنے ساتھیوں اور اپنے اپنے پڑوسیوں کو قتل کرتے پھرو۔“

آئیے بائبل میں مذکور ایک اور واقعہ پڑھتے ہیں۔

”خداوند نے حضرت نوح ؑ کی اولاد کو برکت دی اور کہا“ بارور ہو اور بڑھو اور زمین کو معمور کرو۔ مشرق کی طرف چلتے چلتے وہ ملک سنعار میں بس گئے۔ پھر وہ کہنے لگے کہ آؤ ہم اپنے واسطے ایک شہر اور ایک برج جس کی چوٹی آسمان تک پہنچے، بنائیں اور یہاں اپنا نام پیدا کریں۔ ”قدیم دور کے آثار بتاتے ہیں کہ اس مینار کو ایک عجوبے کی حیثیت حاصل تھی۔“ یہ سب لوگ ایک تھے اور ایک ہی زبان تھی۔ پھر ان کی زبان میں اختلاف پڑ گیا۔ وہ ایک دوسرے کی بات نہیں سمجھ سکتے تھے۔ پس خداوند نے ان کو تمام روئے زمین میں ذلیل کیا۔ اس لئے اس شہر کا نام بابلؔ ہوا کیونکہ وہاں سے ساری زمین کی زبان میں اختلافات کا آغاز ہوا۔ ”

بابل اس دور کا جدید شہر تھا۔ وہاں پہلی مرتبہ انسان نے پتھر اور چونے کی بجائے پکی اینٹ اور گارے سے مکان بنائے۔ یہ ایک نئی ایجاد تھی۔

ایجادات کا انسانی ترقی میں ایک اہم کردار رہا ہے۔ وہ ترقی سماجی ہو، معاشرتی ہو، سیاسی ہو یا کسی بھی اور شعبہ میں۔

انسانی ترقی کی تاریخ میں تبدیلیوں کا ایک تسلسل ملتا ہے۔ جوں جوں آبادی بڑھی انسانوں کے درمیاں روابط کے جدید طریقے بھی دریافت ہوتے گئے۔ نئی نئی ایجادات نے دور دراز کے لوگوں کو قریب کر دیا۔ چھاپہ خانہ ایجاد ہوا تو اطلاعات کے نظام میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئی۔ مذہب پر چند لوگوں کی اجارہ داری ختم ہوئی جس سے پاپائیت کو ٹھیس پہنچی۔ اس دور میں لڑی جانے والی مذہب کی جنگوں نے بہتر اور باخبر شہریوں کے ساتھ یورپ کی جدید قومی ریاستوں میں منتقلی کو ممکن بنایا۔ ان ممالک میں جمہوریت پروان چڑھی اور انسان آزاد ہوا۔

چھاپہ خانہ اور دوسری تمام ایجادات انسان کو قریب لانے میں معاون ثابت ہوئی ہیں۔

پچھلی صدی کی حیران کن ایجاد کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تھا۔ صدی کے اختتام پر ای میل اور چیٹ روم میں پیغامات کا بہاؤ شروع ہو گیا تھا۔ موجودہ صدی کی پہلی دہائی میں فیس بک، مائی سپیس، سکائپ اور ٹویٹر وغیرہ نے دوستوں، رشتہ داروں اور پھر غیروں سے بھی رابطہ اور خیالات و جذبات کا تبادلہ انتہائی آسان کر دیا۔ 2008 تک ایک ارب ممبران کے ساتھ ( موجودہ تین ارب) فیس بک پوری دنیا میں رابطہ کا سب سے بڑا پلیٹ فارم بن چکا تھا۔

سماجی رابطہ کے ان پروگراموں نے جمہوریت اور شخصی آزادی کی تحریکوں کو بہت تقویت دی۔ سوشل میڈیا کی یہ آزادی مشرف کی آمریت کی شکست میں سب سے کامیاب ہتھیار بنی۔ اب کوئی بھی آمر خبروں پر پابندی لگا کر عوام کو اندھیرے میں نہیں رکھ سکتا تھا۔ بھٹو اور نواز شریف کی حکمرانی کی آخری راتوں میں دل بسمل پر کیا گزری، ایک عرصہ تک عوام کو پتا نہ چل سکا۔ عمران خاں رات ساڑھے گیارہ بجے وزیراعظم ہاؤس سے روانہ ہوئے، اس سے پہلے ہی سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا چیخ اٹھا تھا کہ سر نگوں بیٹھے ساقی کی گردن پر بازو قاتل اپنا زور آزما رہا ہے۔

موجودہ صدی کی دوسری دہائی میں عالمی سطح پر سوشل میڈیا کے جمہوریت پر اچھے اثرات کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ عرب بہار (دسمبر 2010 ) ، وال سٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک (ستمبر 2011 ) سوشل میڈیا کی صرف ایک ایک پوسٹ سے شروع ہوئیں اور کامیابی کے جھنڈے گاڑتی گئیں۔ اسی سال گوگل نے ترجمہ کی سہولت مہیا کی۔ یہ تمام سہولیات سمارٹ فون کی شکل میں انسان کے ساتھ مستقل جڑ گئیں۔ یہ وہ دور تھا جب ہم ’انفارمیشن کا برج‘ بنانے کی تیاری مکمل کر چکے تھے۔ پوری دنیا کے انسان ایک دوسرے کے ساتھ مستقل رابطے میں تھے اور ہر کسی کی زبان سمجھتے تھے۔
اب گوگل نے لائک، شیئر اور ٹویٹر نے ری ٹویٹ کے آپشن متعارف کروائے۔ اس طرح اطلاعات کا بہاؤ چند مخصوص لوگوں کی بجائے ہر انسان کے اپنے ہاتھ میں آ گیا۔ اب وہ اپنی بات، مسئلہ یا خبر (جھوٹی سچی) لکھ کر لوگوں کو بتا سکتا تھا اور پڑھنے والے اپنی پسند ناپسند کے مطابق اس پر تبصرہ لکھ کر آگے پھیلا سکتے تھے۔ پھر لوگوں میں اپنی پوسٹوں پر زیادہ لائک اور شیئر حاصل کرنے کی تگ و دو شروع ہو گئی۔ بعض پوسٹیں وائرل ہونے پر لوگ راتوں رات سلیبرٹی بن گئے۔

مشہور ہونے کی خواہش میں لوگوں نے اخلاقیات اور روایات کی دھجیاں بکھیرنا شروع کر دیں۔ گوگل کی ریسرچ کے مطابق مخالفین (سیاسی، مذہبی، نسلی، وغیرہ وغیرہ) کے خلاف نفرت انگیز پوسٹیں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرتی ہیں۔ اس طرح وہ میڈیا جو انسانوں کو قریب لانے کے لیے ایجاد ہوا تھا ان میں نفرت پھیلانے کا سبب بن گیا۔ بابل کا انفارمیشن کا برج جو ہم نے پچھلی دو دہائیوں میں کھڑا کیا تھا، ہماری تباہی کا ساماں کرنے لگا۔

ان دو دہائیوں سے عمومی طور پر اور جنوری 2013 کے دھرنے کے بعد خصوصی طور پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے بائبل کے واقعات اس کی بہترین تصویر کشی کرتے ہیں۔ علامہ طاہر القادری جو کہ نئی دنیا کی تلاش میں اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو کر کینڈین شہریت کا چوغہ پہن چکے تھے، جمہوریت اور سیاست دانوں کے خلاف نعرے لگاتے ڈی چوک پہنچ گئے۔ اس دوران سوشل میڈیا نفرت کے شعلے بھڑکا رہا تھا۔ دو سال بعد خان صاحب جو کہ شروع سے ہی مغرور، خود پسند اور تند مزاج کپتان کے طور پر جانے جاتے تھے، اس نفرت انگیز مہم میں شامل ہو گئے۔

اب کی بار سوشل میڈیا تحریک انصاف کا پڑھا لکھا طبقہ کنٹرول کر رہا تھا۔ نفرت کی اس آندھی نے عدالت عظمی، پارلیمنٹ، پی ٹی وی، پولیس اور اس ملک کے دیگر تمام اداروں کی عزت ڈی چوک میں نیلام کر دی۔ ان کی نظر میں تمام مخالفین چور ڈاکو اور لٹیرے تھے۔ تین مرتبہ کا وزیراعظم جھوٹا اور خائن تھا۔ ہاں، غصہ بہت عقل مند ہوتا ہے صرف کمزور پر ہی آتا ہے، طاقتور کے سامنے گردن جھکا دیتا ہے۔ اس لیے وہ سب ایمپائر کی انگلی کا اشارہ بھی سمجھتے تھے۔

عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ بھی ناولوں کی مثالیں دے دے کر مودی کا یار، غدار، گاڈ فادر، سسلین مافیا کے القابات سے نواز کر نفرت کے جذبات کو برانگیختہ کر رہے تھے۔ ٹویٹر چلانے کے لیے اعلیٰ عہدیدار موجود تھے جو کہ وزیراعظم کے حکم پر نفرت بھرا جملہ ٹویٹ کرتے تھ

نفرت کا یہ الاؤ انڈیا میں مودی اور امریکہ میں ٹرمپ بھی اپنے مفادات کو پورا کرنے کے لیے بھڑکا رہے ہیں۔ ٹرمپ کے حامیوں نے بھی اپنا پسندیدہ نتیجہ نہ ملنے کے غصے میں سینٹ اور وائٹ ہاؤس پر دھاوا بول دیا تھا۔ پاکستان میں تحریک انصاف اس کام میں چیمپین ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ باقی پارٹیاں دودھ میں دھلی ہیں۔ ریحام خاں کی کتاب کے وہ حصے جو کہ پبلش بھی نہیں ہوئے سوشل میڈیا پر عمران خان پر گند اچھالنے کے لیے لکھے گئے تھے۔

بظاہر اس کام میں نون لیگ کا کردار اچھا نہیں رہا۔ مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی کی سوشل سائٹس نفرت بھرے انداز میں عمران خاں کی پہلی بیوی جمائمہ (جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ) کے حوالے سے اس پر یہودی ہونے کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔ یہی نفرت پوری دنیا میں مخالفین خصوصی طور پر اقلیتوں کو سر عام مارنے اور جلانے میں بھی استعمال ہو رہی تھی۔

سوشل میڈیا کی بے لگام آزادی کے اثرات جمہوری ملکوں پر زیادہ ہوئے۔ جمہوریت کے علمبردار ممالک جہاں سوشل میڈیا کو مکمل آزادی ہے مثلاً برطانیہ، امریکہ، کوریا، انڈیا بدترین حکمرانی کا شکار ہوئے ہیں۔ نفرت پھیلاتا یہ سوشل میڈیا ایک ایسا جذباتی ہجوم اکٹھا کرتا ہے جو گالی گلوچ اور توڑ پھوڑ کی انتہا کر دیتا ہے۔ انسانوں کے درمیاں خلیج بڑھا کر اداروں کی تباہی کا سبب بنتا ہے لیکن ان کے پاس مستقبل کا کوئی منصوبہ نہیں ہوتا بلکہ اگر یہ گروہ حکومت پر آ جائے تو بری طرح ناکام ہوتا ہے۔ لولی لنگڑی اور کمزور سیاسی پارٹیوں کا ملک پاکستان پچھلے ساڑھے تین سال میں ایک ایسی ہی نا اہل حکومت کا مزہ چکھ چکا ہے۔

اس کے بر عکس چین اور عرب امارات جیسے ممالک جہاں میڈیا پر زبردست قسم کی پابندیاں ہیں، بہترین حکمرانی کی ورلڈ رینکنگ میں صف اول میں موجود ہیں۔

نفرت کی سیاست کی ایک بہت بڑی خامی یہ بھی ہے کہ نفرت پیدا کرنے والے گروہ آپس میں بھی نفرت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض مرتبہ یہ گروہ اپنے آقا کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اب چھوٹے چھوٹے گروہ جیسے تحریک لبیک پاکستان ڈنڈا سوٹا اور بندوقیں اٹھا کر ملکی اداروں کے خلاف سڑکوں پر نکلنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کا سوشل میڈیا ونگ سب سے زیادہ مضبوط ہے۔ مارک ذکربرگ نے فیس بک کے ایسے استعمال کو دیکھ کر کہا تھا، ”ہم نے چار سالہ بچے کے ہاتھ میں بھری ہوئی بندوق پکڑا دی ہے۔“

سوشل میڈیا پر لوگ بنی اسرائیلیوں کی طرح بے قابو ہو گئے ہیں، بے لگام ہو گئے ہیں۔ اندھی عقیدت کی چادر اوڑھے، جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک دوسرے کے خلاف فتوے جاری کر رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی قوم پر جو اندھیرا چھایا تھا کیا وہ رات کا اندھیرا تھا یا جہالت و گمراہی کا؟ کیونکہ رات کی اندھیرے میں بھی انسان اپنے بھائی بندوں کو پہچانتا ہے۔ وہ لوگ اپنے بھائیوں کو قتل کرتے جا رہے تھے اور گناہ گار و بے گناہ دونوں گروہوں کے لوگ مارے گئے۔ وہ تلوار اپنی رانوں کے ساتھ باندھ کر نکلے تھے ا ور ہمارے مجاہد بم اپنے پیٹ کے ساتھ باندھ کر اپنوں بھائیوں کو شہید کر کے شہادت کی منزلوں کی طرف رواں دواں ہیں۔ اتفاق دیکھیں کہ ہمارے شہدا کی تعداد بھی ستر ہزار کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے۔

ہمارے ہاں اب کوئی مخالف کی بات سننے کو تیار نہیں۔ ہماری زبان ایک ہے لیکن ہم کسی کی بات سمجھنے کو تیار نہیں۔ ہم ایک دوسرے کے دشمن بن کر ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور مرنے مارنے پر تلے ہیں۔ حضرت نوح کی اولاد کے بسائے شہر میں زبان کے اختلاف کا ذکر ہے۔ کیا ممکن ہے کہ ایک ہی نسل اور ایک ہی شہر کے رہنے والوں میں زبان اتنی بدل جائے کہ وہ ایک دوسرے کے بولی نہ سمجھ سکیں؟ یا یہ جہالت اور نفرت تھی جس نے ایک دوسرے کی بات کو سمجھنا مشکل بنا دیا۔ شاید وہ ایک دوسرے کی بات سمجھنا ہی نہیں چاہتے تھے؟ اور وہ سارا شہر ان کے اپنے ہاتھوں سے تباہ و برباد ہو گیا۔

آئیے بائبل کا ہی ایک اور واقعہ دیکھتے ہیں۔

”بابل کے بادشاہ بیلشضر نے اپنے ایک ہزار امرا کی بڑی دھوم دھام سے ضیافت کی اور ان کے سامنے مے نوشی کی۔ بیلشضر نے مے سے مسرور ہو کر حکم دیا کہ سونے اور چاندی کے وہ مقدس ظروف جو اس کا باپ یروشلم کی ہیکل سے نکال لایا تھا لائیں تاکہ بادشاہ اور اس کے امرا اور اس کی بیویاں اور حرمین ان میں مے خوری کریں۔ مقدس ظروف کی بے حرمتی پر ایک الوہی ہاتھ نمودار ہوا جس نے دیوار پر ایک فقرہ لکھ دیا۔ اس نوشتہ دیوار کی تشریح دانیال نبی نے عذاب کی علامت کے طور پر کی۔ اسی رات بغاوت میں بیلشضر مارا گیا۔“

آج کل کا نوشتہ دیوار فیس بک ٹویٹر، وٹس ایپ اور دوسرے پروگرامز ہیں جو کہ ہماری تباہی کا اشارہ ہیں۔ کاش ہم ان میں چھپے خفیہ پیغام کو پڑھ لیں اور نفرت اور جہالت کے اندھیرے میں فاقتلوا انفسکم کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کو روک سکیں۔

سید محمد زاہد

سید محمد زاہد

ڈاکٹر سید محمد زاہد اردو کالم نگار، بلاگر اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کا زیادہ تر کام موجودہ مسائل، مذہب، جنس اور طاقت کی سیاست پر مرکوز ہے۔ وہ ایک پریکٹس کرنے والے طبی ڈاکٹر بھی ہیں اور انہوں نے کئی این جی اوز کے ساتھ کام کیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button