کُل جہاں دلنشین ہے مولا!
تیری دُنیا حسین ہے مولا!
سب خدائی ہے صرف تیری، تُو
مالک العالمین ہے مولا!
تُو سُنے گا مری دُعا، تیرے
حرفِ کُن پر یقین ہے مولا
ذرّے ذرّے سے ہے عیاں یاربّ!
تیری قدرت مبین ہے مولا!
تیری محتاج ساری دنیا ہے
تُو تو قادر متین ہے مولا!
بندگی میں تری سدا جھکتی
ہر گھڑی یہ جبین ہے مولا!
کس قدر خوش نصیب ہوں بشریٰ
دل میں میرے مکین ہے مولا!
بشریٰ سعید عاطف








