آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریماوٰی سلطان
اتنی بڑھی گھٹن کہ ہواؤں پہ آگئی
ماوٰی سلطان کی ایک اردو غزل
اتنی بڑھی گھٹن کہ ہواؤں پہ آگئی
جلنے لگی جو دھوپ ، تو چھاؤں پہ آگئی
کچھ یاد بھی ہے تم نے دُکھائے ہیں کتنے دل
ایسا بھی کیا کہ بات دعاؤں پہ آ گئی
کل تک تعلقات طبیعت پہ بوجھ تھے
خود پے پڑی تو بات وفاؤں پہ آ گئی
اک دور تھا کہ قائلِ توحید تھے عباد
عرصہ ہوا خدائی ، خداؤں پہ آ گئی
ایمان بھوک کھا گئی ایقان خواہشیں
حیران ہوں کہ خلق خطاؤں پہ آ گئی
تادیب کی کمی کبھی جھلکی جو طفل میں
تو بات صرف ماں کی اداؤں پہ آ گئی
آدھا ادھورا ساتھ بھی آفت سے کم نہیں
جیسے بلا اک اور ، بلاؤں پہ آ گئی
ماوٰی سلطان








