معاشرے کی اصلاح میں “نصیبو کا کردار” ایک ایسا پہلو ھے جس پر بہت کم بات ھُوئی ھے۔ حقیقت یہ ھے کہ نصیبو کے ہر گانے میں لوک سُدھار کا ایک واضح پیغام چُھپا ھے۔ نئی نسل کے مفکرین کا کہنا ھے کہ نصیبو لال کے چُنیدہ گانوں میں دئیے گئے پیغام پر اگرعمل کر لیا جائے تو معاشرہ بہتری کی طرف سو فیصدی گامزن ھو جائے گا ۔
“پپیاں دے پیسے وکھرے تے جپھیاں دے وکھرے”
“جے تُوں رج کے کرنا اے پیار، تے مہینہ طے کر لے”
کسی بھی چیز کا معاملہ کرنے سے پہلے جزئیات کوطے کر لیا جائے۔ تو بعد میں لڑائی جھگڑے سے بچا جا سکتا ھے۔ ہماری عدالتوں پر کیسوں کا بوجھ گھٹانے کا یہ مجرب نسخہ ھے۔
نصیبو کو نوجوانوں کی گِرتی ھوئی صحت پر تشویش لاحق ھے۔اس کا دیسی حل بتاتی ہیں۔،
“دُدھ پیار والا پی لے۔ مینُوں لگ ناں ایں کمزور وے”
“گڑوی دُدھ والی، اِکّو ڈِیک چ پی لے”
“چُوس لے انگور، پانویں چکھ لے تُوں امبیاں”
نوجوانوں میں جگر کی گرمی پرمُضطرِب نصیبو انہیں حکمت کا سنہری اصول بتاتی ہیں۔
“ٹھنڈ پَوَے گی کلیجے دِلدار، پیار دی گنڈیری چُوپ لے”
ہمارے ہاں صحت کی ناکافی سہولتوں کے بارے میں عوام کی آواز بنتے ھُوئےنصیبو یوں احتجاج کرتی ہیں۔
“ہُن کِتھوں میں علاج کراواں
ادّھی راتیں پِیڑھ اُٹھ دی”
مطلب کہ آدھی رات کو کسی کو کوئی تکلیف آ جائے تو علاقے میں دُور تک علاج معالجے کی سہولت میسر نہیں۔
بارشوں کا موسم ہمارے ملک کے لوگوں میں بہت جانی و مالی نقصان کرتا ھے۔ جانی نقصان سے بچنے کے لئیے نصیبو سیفٹی فرسٹ کا یہ اصول بتاتی ہیں۔
“پیندی اے برسات وے
ناں جاوِیں آج رات وے”
مطلب کہ جہاں موجود ہیں۔وہیں ٹھہر کے بارش ختم ھونے کا انتظار کریں ۔
اپنے مِڈل ایسٹ کے پردیسی بابو کو یوں سمجھاتی ہیں کہ
“ایناں نیڑے ناں ھو دِلدار وے
کلّے سون لگیاں تکلیف ھووے گی”
یعنی جُدائی میں بھی محبوب کے درد کا احساس ھے۔
شہرت پا کے مغرور ھونے والوں کے لئیے نصیبو کا کہنا ھے کہ بندے کو اپنی اوقات نہیں بھُولنی چاہیئے ۔ اپنی غُربت کے دن یاد کر کے نصبیو آج بھی آبدیدہ ھو جاتی ھے
“کچّا میرا کوٹھا، تے کوٹھے دی چَھت چَو گئی”
اس وجہ سے نصیبو کے کپڑے اکثر بھیگ جاتے تھے
“کُڑتی وی گِلّی گِلّی، لاچا وی گِلّا گِلّا”
اللّہ اللّہ، کیسی بے بسی ھے۔ کیسا کٹھن وقت تھا ۔
اپنے ساتھی کی رضامندی کے بغیر جسمانی تعلق قائم کرنا میاں بیوی کے لئیے بھی میریٹل ریپ کے زُمرے میں آتا ھے۔ یورپی ممالک میں اسے جرم گردان کے سزا بھی دی جاتی ھے۔نصیبو نے سارا قانون ایک جُملے میں سمو دیا ھے ۔
“دِل پیار کرَن نُوں کردا
وے کالُو تیری ہاں چائی دی”
جاری ھے
نصیبو، ایک عہد ساز شخصیت
پی ایچ ڈی مقالہ
باب 3
محقق محمد مُوسٰی
ہارورڈ یونیورسٹی (ایمن آباد کیمپس)






