آپ کا سلاماردو غزلیاتشاز ملکشعر و شاعری

جو ہو سکے تو اے نصیب

شاز ملک کی ایک اردو غزل

جو ہو سکے تو اے نصیب یوں اُجالنا مجھے
نہ بخت کے حسین تخت سے اُتارنا مجھے

اگر میں لڑکھڑا گئی کسی مقامِ عشق پر
مرے شریکِ زندگی تو ہی سنبھالنا مجھے

کتابِ حق میں یہ کہا ہے رب نے میرے باخدا
کٹھن ہو رہ گزر کوئی تو بس پکارنا مجھے

میں وہ نہیں کہ چپ رہوں گی زندگی کو چھوڑ کر
میں ساتھ لے کہ جاؤں گی سمجھ کے مارنا مجھے

کہیں ترستی ہی رہوں اے زندگی ترے لیے
اے زندگی نہ اس طرح کبھی گزارنا مجھے

سمجھ میں آئے دھڑکنوں کا ساز گر تجھے کبھی
بٹھا کے اپنے سامنے تو بس سنوارنا مجھے

وہ خوش مزاج مجھ سے کہہ رہا تھا آج بس یہی
کڑی اداسیوں سے شاز تم نکالنا مجھے

شاز ملک

post bar salamurdu

شاز ملک

شاعرہ ، ناول نویس ،افسانہ نگار ، کالم نویس گیت کار ، ڈرامہ اسکرپٹ رائیٹر شاز ملک پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے تعلق رکھتی ہیں گزشتہ ستائیس سالوں سے فرانس میں مقیم ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button